قومی جہد کیلئے بانک کریمہ توانہ آواز تھیں، بلوچ خواتین ان کی پیروی کرتے ہوئے سیاسی عمل کا حصہ بنیں، این ڈی پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ خواتین بانک کریمہ کی پیروی کرتے ہوئے سیاسی عمل کے ذریعے قومی جہد کا حصہ بنیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بانک کریمہ کی سیاسی زندگی کو بلوچ خواتین کے لئے مشعل راہ سمجھتی ہے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کریمہ بلوچ کی دوسری برسی کی مناسبت سے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ بانک کریمہ نے اپنی زندگی بلوچ سیاست کیلئے وقف کرتے ہوئے ہمہ وقت قومی پالیسیوں میں حصہ لیا۔ انکی زندگی نہ صرف بلوچ سماج بلکہ مظلوم اقوام کے ہر طبقہ فکر کے لئے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے بلوچ خواتین کو سامراجی پالیسیوں کے منتخب کردہ حالیہ سماجی ڈھانچے کے طے شدہ قوانین کو یکسر مسترد کرتے ہوئے گھریلو معاملات کے ساتھ ساتھ سیاست میں حصہ لے کر قومی معاملات میں حصہ لینے کی ترغیب دی۔ کریمہ بلوچ بیک وقت بہترین بیٹی، ماں، بہن، بیوی، دوست اور ایک لیڈر کے طور پر ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔ انہوں نے طالب علمی کے دوران سیاسی زندگی کی ابتداءکی اور زندگی کے آخری ایام میں بھی جلا وطنی کی زندگی گزار کر قومی سیاست میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتی رہیں۔ انہوں نے اپنی مختصر زندگی میں جبر و تشدد، ایف آئی آر، چھاپے، گھر پر حملوں سمیت دیگر جسمانی و نفسیاتی صعوبتیں برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے کئی دوستوں کی مسخ شدہ لاشیں وصول کیں۔ ذاکر مجید، زاہد بلوچ سمیت سینکڑوں دوست اب تک جبری گمشدگی کا شکار ہیں جنکے لیے کریمہ بلوچ ایک توانہ آواز تھیں جس کے خوف سے بلوچ دشمنی میں ملوث کرداروں نے کینیڈا میں قتل کروا دیا۔ کریمہ بلوچ جسمانی طور پر بلا شبہ اس دنیا فانی سے رخصت ہوچکی ہیں مگر ان کے نظریات و افکار تا حیات اس قوم کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی بانک کریمہ کی زندگی کو بلوچ خواتین کے لئے مشعل راہ سمجھتی ہے، جن کی زندگی کا مقصد سیاست میں حصہ لے کر قومی پالیسیوں میں کردار ادا کرنا تھا۔


