افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی کیخلاف ننگر ہار یونیورسٹی کے طلبہ نے احتجاجاً امتحانی پرچے پھاڑ دیے
کابل (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان حکام کی جانب سے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی کیخلاف ننگرہار یونیورسٹی کی فیکلٹی آف میڈیسن کے طلبا نے طالبات کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم کو روکنے کے فیصلے کے خلاف احتجاجا امتحانی پرچے پھاڑ دیے اور ہال چھوڑ دیے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ طلبا کے اس جرات مندانہ احتجاج پر طالبات نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ افغان حکام نے خواتین پر مزید پابندیوں کی جانب ایک نئے قدم میں لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وزارت تعلیم کے ترجمان نے بیان میں تصدیق کی کہ وزارت اعلیٰ تعلیم نے ملک کی تمام سرکاری اور نجی یونیورسٹیوں کو ایک خط لکھا جس میں کہا گیا کہ لڑکیوں کے لیے اعلی تعلیم تا اطلاع ثانی ممنوع ہے۔ یہ پابندی لڑکیوں کے لیے یونیورسٹی سے پہلے کی تعلیم پر پابندیاں عائد کرنے اور خواتین کے دارالحکومت کابل کے پارکوں یا سوئمنگ پولز اور جموں میں داخلے پر پابندی کے بعد سامنے آئی ہے۔ اقوام متحدہ نے افغان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی حقوق کی تمام بین الاقوامی ذمہ داریوں اور افغانستان پر عائد کردہ وعدوں کی پاسداری کریں۔ انسانی حقوق کے ان معیارات کو مکمل طور پر نافذ کریں جنہیں افغانستان نے آزادانہ طور پر قبول کیا ہے۔لڑکیوں کو تعلیم اور ملازمت کے حقوق فراہم کریں اور انہیں ثقافت اور عوامی زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں۔ تاہم افغان حکومت نے امریکا اور دوسرے اداروں کی طرف سے مطالبات مسترد کردیے ہیں۔


