بلوچستان کے زمینداروں کو ٹیوب ویل پر سبسڈی، زیتون اور پستے کی کاشت پر سہولیات دی جائیں، نصیر شاہوانی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے بلوچستان اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے زمینداروں کے سبسڈی پر چلنے والے ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرکے بجلی بچا کر صوبے کی دیگر ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ سبسڈی کا بوجھ وفاق کے علاوہ اب صوبے پر ڈال دیا گیا ہے اور بلوچستان کو اسکی ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی ممکن نہیں بنائی جارہی جسکی وجہ سے کسانوں اور صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم روز اول سے ہی بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کو سبسڈی پر چلانے کی بجائے سولر پر منتقل کرنے کے لئے آواز بلند کرتے آرہے ہیں سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت میں وفاقی اور صوبائی پارلیمنٹرین، وزراء اور زمیندار ایکشن کمیٹی کے نمائندوں پر مشتمل ایک وفد نے ہماری جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل سابق سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، سعید الحسن مندوخیل، مولانا عبدالغفور حیدری، عثمان خان کاکڑ اور دیگر جماعتوں کے نمائندوں کے ہمراہ اس وقت کے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور انہیں بلوچستان کے زمینداروں کی حالت زار اور مسائل سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کرنے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت کی اس وقت 60 فیصد وفاق اور 40 فیصد صوبے سبسڈی دیتے تھے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد 40 فیصدوفاق اور 60 فیصد صوبے دے رہے تھے اور اب تو تمام بوجھ صوبوں پر منتقل کردیا گیا۔ جس کی وجہ سے گزشتہ کئی سال سے سبسڈی ادا نہیں کی جارہی اور کیسکو کی جانب سے 400 ارب روپے زمینداروں پر سبسڈی کی مد میں ڈالے جارہے ہیں زمینداروں نے کہا تھا کہ ہم پر ڈالے جانے والے سبسڈی کے اربوں روپے کا از سر نو جائزہ لیا جائے اور اس پر نظر ثانی کرتے ہوئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ سابق نگران وزیر اعظم مرحوم جسٹس (ر) میر ہزار خان کھوسہ کو جب ہم نے متنازعہ رقم پر نظر ثانی کے لئے درخواست دی تھی اس وقت زمینداروں کے ذمہ 132ارب روپے تھے کہ اس کو متنازعہ رقم قرار دیا جائے جس پر چیئرمین واپڈا اور سیکرٹری واٹر اینڈ مین پاور کی جانب سے اس پر کام کیا گیا اور 132 ارب روپے کی سبسڈی ڈھائی سال بند رکھی گئی تاکہ ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کیا جائے لیکن کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا بلوچستان میں زیر زمین گرتی ہوئی پانی کی سطح اور ہزار فٹ سے زائد گہرائی سے پانی نکالنے کے لئے 60 ہارس پاور کی موٹر سے 2 سے 3 انچ پانی نکالا جاتا ہے جبکہ پنجاب میں 100 فٹ گہرائی سے 5 سے 10 ہارس پاور کی موٹر سے 8انچ کے پائپ سے پانی نکال جاتا ہے اور ہمارے پاس بجلی کے بل بھی زائد آتے ہیں اور وولٹیج کی کمی بیشی بھی رہتی ہے آج دنیا بھر میں زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ٹنل فارمنگ اور قطراتی سسٹم پر منتقل کرکے کم پانی خرچ کرکے زیادہ پیداوار اور منافع حاصل کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہوئے زراعت کی بہتری کے لئے کام جاری ہے لیکن ہمارے ملک اور صوبے میں اس پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی اگر سبسڈی کے لئے دیئے جانے والے اربوں روپے 29 ہزار سے زائد زرعی ٹیوب ویلوں کو سولر پر منتقل کیا جائے تو ہمارے زمیندار 6 سے 8 گھنٹے اس سولر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی کاشت کاری کے لئے ٹیوب ویلوں سے استفادہ کرسکتے ہیں اس لئے کوئٹہ کا موسم بھی بہت گرم ہے یہاں پر سیب کی پیداوار متاثر ہورہی ہے کیونکہ سیب کو زیادہ پانی اور ٹھنڈا موسم چاہئے اس کے لئے زیارت اور قلات موزوں ترین علاقے ہیں ہمیں جدید طرز کی زراعت پر جاکر اپنے زمینداروں کو زیتون اور پستے کی کاشت کے لئے سہولیات اور وسائل فراہم کرنے ہیں جس پر کم پانی اور اخراجات آتے ہیں اور زمینداروں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے جس طرح بلوچستان کے 18 اضلاع میں زراعت اور لائیو سٹاک کی بہتری کے لئے 40 ملین یورو کے فنڈز دیئے گئے ہیں یہ قابل تحسین اقدام ہے ان فنڈز کو حقیقی معنوں میں صاف اور شفاف طریقے سے دونوں شعبوں کی بہتری پر خرچ کرکے اپنے زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ مالی فوائد حاصل کرسکتے ہیں دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی اور سہولیات سے مستفید ہوکر جدید تجارت کے طریقہ کار اپناتے ہوئے کم پانی کے ذریعے پھل اور دیگراجناس پیدا کرکے زیادہ پیداوار اور معاشی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے اس پر ہمارے ملک اور بلوچستان میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے محکمے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہے جس کی وجہ سے ایک ایک شعبے کو دو دو محکموں میں تقسیم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ محکموں کی ذمہ داری بھی پوری نہیں ہوپارہی اور نہ ہی لوگوں کو اس وقت شہر میں پی ایچ ای اور واسا کے محکمے پانی کی فراہمی یقینی بنارہے ہیں۔ محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ جب تک زراعت کو وسعت نہیں دی جائے گی اس وقت تک مسائل کے حل کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا صوبے کے لوگوں کے ذریعے معاش زراعت اور لائیو سٹاک کو زبوحالی سے بچانے کیلئے وسائل فراہم کرکے زمینداروں کی ہر لحاظ سے مدد کرنے کی ضرورت ہے۔


