بلوچ پشتون فساد پھیلانے والے اپنی حرکتوں سے باز آجائیں، پی ایس ایف سے ا تحاد رہے گا، بی ایس او شامل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) بی ایس او شال زون کے ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہیں کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن طلباءکی حقیقی نمائندہ تنظیم ہے جو روز اول سے بلوچ قومی مفادات، ساحل وسائل اور طلباءکے مفادات کے خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے اور پر امن سیاسی جدوجہد سے نوجوانوں کو شعور سے لیس کرکے قومی جہد کی راہ دکھائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ بی ایس او کو کمزور کرنے کے لیے تقسیم کرنے اور بدنام کرنے کیلئے سازشیں کیے جاتے رہے ہیں لیکن تنظیم کی باللغ النظر قیادت و با شعور ممبران نے دانائی سے ہر سازش کو ناکام بنایا ہے۔ بیان میں مزید کہا کہ بی ایس او ہمیشہ دیگر مظلوم قوموں کی تحریک اور حقیقی طلباءتنظیم و سیاسی جماعتوں کا احترام سب بالاتر رکھا گیا ہے اور وقت آنے پر جدوجھد میں ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی رہی ہے۔ اور بہت سے الائنس کی شکل میں مشترکہ جدوجہد کو فروغ دیکر دیگر طلباءتنظیموں کے طرح بی ایس او نے کئی محاذ پر پی ایس ایف (پشتون ایس ایف) کے ساتھ مل کر طلبائ جدوجہد کی ہے۔ پی ایس ایف نے باچا خان بابا کے فلسفے پر کاربند ہو کر مظلوم و پشتون قوم کیلئے قربانیاں دی ہیں مگر بدقسمتی سے چند عناصر پی ایس ایف کے فلسفے کیخلاف استعمال ہوکر ریاستی پالیسی کو مظبوط کرنے و بلوچ اور پشتون پر ہونے والے مظالم کو دانستہ یا نادانستہ طور پر جواز پیدا کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں، جن میں پی ایس ایف بلوچستان کے صوبائی قیادت میں موجود کچھ لوگوں کو بالکل نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ان کی شناخت باقاعدہ پی ایس ایف کے اپنے اراکین بھی کرچکے ہیں جو پی ایس ایف میں رہ کر پی ایس ایف اور طلباءسیاست کو کمزور و بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے۔ باچا خان بابا کے عدم تشدد کے فلسفے کو پاو¿ں تلے روند کر تعلیمی اداروں میں تشدد کی راہ اپناتے ہوئے بھتہ گیری فسادات اور لڑائیاں پیدا کرکے تعلیمی ماحول اور طلباءسیاست کو بدنام کرنے کی مشن پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں پی ایس ایف بلوچستان کے صوبائی صدر کے جانب سے سیاست میں ذاتی مفادات اور نام کمانے کیلئے ایک پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں بہت سارے الزامات اور بی ایس او اور پی ایف ایف کو لڑانے کی نیت سے دھمکی اور متشدد الفاظ استعمال کیے گئے جسکا مقصد بی ایس او پی ایس ایف کے اتحاد کو ختم کرکے ان کو دست و گریبان کرانا تھا جسکی ہم بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور ان عناصر کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بی ایس او پر امن و عدم تشدد کی راہ چل کر ہی آپ کے ناپاک عزائم کو کبھی کامیاب ہونے نہیں دیگی۔ پی ایس ایف کا نام استعمال کرکے الزامات لگانے والے یہی لوگ ہیں جنہوں نے جامعہ بلوچستان سمیت دیگر اداروں کے کینٹنز اور دیگر کاروباری جگہوں سے بھتہ لینا ادارے میں اسلحہ کلچر کو پروان چڑھایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند مہینے قبل جامعہ بلوچستان میں بی ایس او کی جانب سے راجی راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کی یاد میں کتب میلہ کا انعقاد کا اعلان کیا تو جامعہ انتظامیہ اور ریاستی اداروں نے کتب میلے کو ناکام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہے جس کی پاداش میں انہی عناصر نے بی ایس او کے ممبران پر حملہ کرکے سازش سے پی ایس ایف، بی ایس او اور بلوچ پشتون تضاد پیدا کرنے کی کوشش کی جس کو دونوں طلباءتنظیموں، سابقہ قیادت، بلوچستان نیشنل پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماو¿ں نے دور اندیشی اور مخلصی سے اس تضاد کو ختم کیا اس کے بعد بھی ان عناصر نے کئی بار جامعہ میں کئی طلباءکو تشدد کا نشانہ بنایا یہاں تک کے ان کے تشدد سے خود پی ایس ایف کے ممبران بھی محفوظ نہیں یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ دو ماہ قبل پی ایس ایف کے ممبران پر بری طرح حملہ کرکے شدید زخمی کیا گیا جس میں صوبائی صدر مکمل طور پر شامل تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ انہی عناصر نے تین ہفتے قبل جامعہ بلوچستان میں بی ایس او کے ممبران پر حملہ کرکے زخمی کیا اور اپنے دفاع میں کھڑے ہونے والے ممبران اور طلباءپر ایف سی کی جانب سے لاٹھی چارج کروایا جس سے درجنوں طلباء زخمی ہوئے۔ بی ایس او اس بات سے واقف تھی کہ اس سازش کے پیچھے پی ایس ایف نہیں بلکہ یہی عناصر ہیں۔ اسی لیے اسکا الزام کسی کے اوپر نہیں ڈالا اور تین دن قبل انہی عناصر نے جامعہ بلوچستان میں ایک جگڑا ہوا جس کو صوبائی صدر اور چند لوگ اپنی سیاست اور بلوچ پشتون تضاد کیلئے الگ رنگ دے رہے ہیں تاکہ پی ایس ایف اور بی ایس او اور بلوچ پشتون آپس میں دست گریباں ہوجائیں لیکن ہم ان عناصر کو واضح پیغام دینا چاہتے ہیں کہ بلوچ پشتون فساد پھیلانے والے اپنی حرکت سے باز آجائیں، بی ایس او مظالم کا شکار ہونے کے باوجود بھی عدم تشدد سے جدوجہد جاری رکھے گی اور پی ایس ایف کے مرکزی قیادت سے گزارش کرتے ہیں کہ ان عناصر کی نشاندھی کرکے ان کو اپنے صفوں سے نکال کر پی ایس ایف اور باچا خان کی فلسفے کی دفاع کرے اور مشترکہ جدوجہد کو پروان چڑھانے کیلئے کلیدی کردار ادا کرے۔


