ایم کیو ایم سے تعلق نہیں، ملاپ کرکے اپنے مہاجروں کے جذبات مجروح نہیں کرسکتا، آفاق احمد
کراچی (انتخاب نیوز) مہاجر قومی موومنٹ کے چئیرمین آفاق احمد نے کہاہے کہ ایم کیو ایم سے نہ ماضی میں کوئی تعلق رہا ہے اور نہ آئندہ رہے گا، گورنر صاحب پہلے بھی آتے رہے جب آنا چاہیں وہ آسکتے ہیں، میں ملاپ کرکے اپنے مہاجروں کے جذبات مجروح نہیں کرسکتا۔ اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفاق احمد نے بلدیاتی الیکشن سے قبل جلد نئی بندیاں کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی الیکشن سے قبل جلد نئی حلقہ بندیاں ہونی چاہیے۔آفاق احمد نے تمام قیاس آرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان، پی ایس پی اور بحالی تنظیم کمیٹی کے انضمام کی بات ہو رہی ہے، بات ان دھڑوں کی ہے جومتحدہ سے الگ ہوئے تھے، اس ساری صورتحال میں مہاجر قومی موومنٹ کا نام بھی آ رہا ہے۔ میری جنگ اقتدار کے لئے نہیں، مہاجروں کے لئے ہے۔ میں ملاپ کرکے مہاجروں کے جذبات مجروح نہیں کرسکتا۔آفاق احمد نے کہا کہ میں فاروق ستار کے گھر والدہ کے انتقال پر گیا، سیاسی بات نہیں کی، گورنر سندھ کا دوبار فون آیا، مصروفیت کے باعث رسیو نہیں کرسکا، میں نے گورنر سندھ کو فون کیا لیکن انہوں نے فون رسیو نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کراچی میں کاروباری اوقات کار محدود کرنے سے متعلق حکومتی تمام فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں۔ کراچی میں جلد کاروبار بند کروانا ظلم ہے، وفاق اپنے تمام فیصلے آئی ایم ایف کے دبا ومیں کر رہا ہے۔ جن کا مقصد کراچی کو حاصل کرنا ہے۔چیئرمین مہاجر قومی موومنٹ آفاق احمد نے سٹریٹ کرائم پر پولیس کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پولیس کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز کو لگام ڈالنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔کراچی میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری بڑھ گئی ہے، گزشتہ سال کراچی میں 56 ہزار سٹریٹ کرام کی وارداتیں ہوئیں، کراچی پولیس کو 126 ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں، اگر پولیس تحفظ نہیں کر سکتی تو پھرعوام کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے۔آفاق احمد نے کہا کہ موبال فون چھینے میں مزاحمت پر 56 نوجوان قتل کر دیئے گئے، اندرون سندھ حادثاتی موت پر بھی معاوضہ دیا جاتا ہے لیکن کراچی میں کسی کو کچھ نہیں دیا گیا، کراچی میں سٹریٹ کرام کا نشانہ بننے والے افراد کے اہل خانہ کی 25 لاکھ فی کس مدد کی جائے، کراچی پولیس چیف کہتے ہیں ڈکیتی کے دوران شہری مزاحمت نہ کریں، گزشتہ سال چھپن افراد کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا۔ان کا کہنا تھا کہ میرا مطالبہ ہے کہ اس شہر کے لوگوں کو اسلحہ لائسنس دیا جائے، سندھ حکومت عوام کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی اجازت دے۔


