ٹی ٹی پی، افغانستان اور پاکستان

تحریر : جیئند ساجدی

قیام پاکستان کے وجود میں آتے ہی افغانستان کے اس وقت کے امیر ظاہر شاہ نے کہا تھا کہ یہ ایک مصنوعی اور غیر فطری ریاست ہے لہٰذا ہندوستان کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر مشرق سے حملہ کرے اور افغانستان مغرب سے تاکہ اس غیر فطری ریاست کا وجود ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے افغانستان کے امیر کے اس جارحانہ بیان کی وجہ یہ تھی کہ اس کا پاکستان کے پشتون علاقوں پر دعویٰ تھا اور وہ انہیں افغانستان کا حصہ سمجھتے تھے۔ افغانستان دنیا کا واحد ملک تھا جس نے پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی بھی مخالفت کی تھی جس کی وجہ یہی زمینی تنازع تھا۔ پارٹیشن سے قبل موجودہ پاکستان کے پشتون رہنما باچا خان نے بھی پاکستان بننے کی مخالفت کی تھی‘ موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پارٹیشن سے قبل ایک ریفرنڈم کروایا گیا تھا جس میں ان کو دو آپشنز دیئے گئے تھے ایک ہندوستان میں شمولیت کا اور دوسرا پاکستان میں انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ اس میں آزاد پختونستان کا بھی آپشن شامل کیا جائے جب ان کا یہ مطالبہ پورا نہیں ہوا تو انہوں نے ریفرنڈم کو غیر جمہوری قرار دیکر اس کا بائیکاٹ کردیا۔
پشتون قوم پرست رہنما اور افغانستان کے امیر کے روےے سے پاکستانی اشرافیہ کو پشتون قومیت اور افغانستان کو لیکر عدم تحفظ کا شکار ہوگئی، انہوں نے پشتون قومیت کو پاکستان میں قابو کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے پہلا یہ کہ پشتون علاقوں کو ان کے نام سے تشبیہ نہیں دی گئی اور ان علاقوں کو صوبہ سرحد کے نام سے چلنے دیا‘ اس کے علاوہ انہوں نے پشتونوں کو پاکستان کے اندر مختلف صوبائی انتظامیہ میں تقسیم کیا تاکہ ان کی سیاسی طاقت مختلف حصوں میں تقسیم ہوجائے ان کے کچھ علاقے بلوچستان میں شامل کئے، کچھ کو قبائلی حیثیت دی (فاٹا) اور کچھ کو صوبہ پنجاب کا حصہ بنادیا گیا (اٹک و میانوالی) انہوں نے پشتون قومیت کو کمزور کرنے کے لئے ریاستی علماءکے ذریعے پشتونوں میں مذہبی جنونیت کو بھی فروغ دینے کی کوشش کی، ریاستی علماءنے یہ نظریہ پیش کیا کہ اسلام میں قوم پرستی کی کوئی گنجائش نہیں اور یہ حرام ہے۔ جہاں تک افغانستان کا تعلق تھا تو پاکستانی اشرافیہ کی یہ خواہش تھی کہ وہ عدم استحکام کا شکار رہے اور اتنا طاقتور نہیں ہوپائے کہ وہ پاکستان کے پشتون علاقوں پر دعویٰ کرسکے اور کسی طرح ایسی مذہبی افغان حکومت وہاں آجائے جو ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد تسلیم کرلے۔ 1965ءاور 1971ءمیں پاکستان نے اپنی مشرقی سرحد پر بھارت سے جنگیں لڑیں لیکن ان دونوں جنگوں کا افغانستان کے امیر نے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور اس بات پر عمل درآمد نہیں کیا جو بات انہوں نے 1947ءمیں کی تھی کہ بھارت پاکستان پر مشرق سے حملہ کرے اور افغانستان مغرب سے، اس وقت افغانستان کے بادشاہ ایک سیکولر اور لسانی قومیت کے حامی تھے۔
1979ءمیں جب افغانستان میں ایک سوشلسٹ انقلاب آیا تو اسے افغانستان میں مذہبی قومیت کے پیروکاروں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، سوویت یونین نے سوشلسٹ جماعتوں کی مدد کے لئے اپنی فوج وہاں بھجوادی جس کے نتیجے میں امریکا، سعودی عرب نے پاکستان کی مدد سے وہاں کے مجاہدین کی مدد کی، افغانستان کے حالات اس عدم استحکام کا شکار ہوئے جس کا خواب پاکستانی اشرافیہ شروع دن سے دیکھ رہی تھی، 1989ءمیں جب سوویت یونین وہاں سے چلی گئی تو امریکا نے بھی افغانستان کو نظر انداز کیا لیکن پاکستان اپنے قومی مفاد کی وجہ سے افغانستان کو نظر انداز نہیں کرسکا اور مجاہدین کی مدد کرتا رہا، انہی مجاہدین نے 1996ءمیں افغانستان میں مکمل قبضہ کرلیا تھا اور پاکستانی مقتدرہ ان کو اپنا پراکسی سمجھ رہی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ ہر چیز پاکستانی اشرافیہ کی منصوبہ بندی کے مطابق ہورہی تھی وہاں ایک مذہبی حکومت تھی اور افغانستان عدم استحکام کا شکار تھا جس کا ثبوت یہ تھا کہ اسے پاکستان سمیت صرف دو بین الاقوامی ریاستوں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تسلیم کیا تھا۔ پاکستانی اشرافیہ کی یہ توقع تھی کہ وہ مذہبی جنونیت کے شکار مجاہدین سے ڈیورنڈ لائن کو ایک بین الاقوامی سرحد منظور کروالیں گے اور افغانستان کو خطہ میں اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے استعمال کریں گے اسے پاکستان نے اسٹریجک ڈیپتھ (Strategic Depth) کا نام دیا لیکن مجاہدین نے حکومت میں آتے ہی اپنے لسانی نیشنلزم کے ثبوت دینے شروع کردیئے، انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو ماضی کی افغان حکومتوں کی طرح تسلیم نہیں کیا یہ ایک اشارہ تھا کہ مجاہدین مذہبی قومیت کے ساتھ ساتھ لسانی قومیت پر بھی یقین رکھتے ہیں جس کو شاید پاکستانی اشرافیہ سمجھ نہیں پائی‘ انگریزی میں مشہور کہاوت ہے کہ ”خون پانی سے زیادہ گاڑھا ہوتا ہے“ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے بارے میں کچھ روز قبل ڈان اخبار کے ایک لکھاری یہ لکھتے ہیں کہ یہ دونوں مذہبی قومیت کے ساتھ ساتھ عرب قومیت پر بھی یقین رکھتے تھے ان کو وسطی اور مغربی ایشیاءسے کچھ خاص لگاﺅ نہیں تھا بلکہ وہ ان خطوں کو محض اپنے سپاہی بھرتی کرانے کے اڈے کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور انہیں عرب ممالک اور دنیا سے زیادہ محبت تھی، 2001ءمیں جب امریکا نے افغانستان سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اسامہ بن لادن کو ان کے حوالے کردیں تو طالبان نے یہ کہہ کر امریکا کے مطالبے کو رد کردیا کہ یہ ہماری روایات کے خلاف ہے کہ ہم کسی سیاسی پناہ گزین اور مہمان کو کسی اور کے حوالے کریں۔ یہ بات انہوں نے پشتون ولی کے نظریے کے مطابق کی تھی اس بات سے انہوں نے پھر سے اپنی لسانی قومیت کی طرف جھکاﺅ کی نشاندہی کی تھی‘ جب امریکا نے طالبان حکومت پر حملہ کیا تو پاکستان امریکا کا اتحادی بن گیا پاکستانی اشرافیہ کو یہ بات اسی وقت سمجھ میں آجانی چاہئے تھی کہ طالبان بھی ماضی کے نام نہاد افغان سیکولر قوم پرستوں سے زیادہ قوم پرست اور خطرناک ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے وہ یہ بات سمجھ نہیں پائے تھے اور جنگ میں انہوں نے دہرا معیار رکھا‘ انہوں نے کچھ مذہبی گروہوں کے خلاف کارروائی تو کی لیکن کچھ کو نظر انداز کیا۔ امریکی اشرافیہ نے بھی پاکستان پر ڈبل گیم کا الزام لگایا اس کے جواب میں جنرل حمید گل نے یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ ہمارے مشرقی بارڈر پر ایک دشمن ملک بیٹھا ہوا ہے تو ہم مغربی بارڈر پر ایک اور دشمن کو برداشت نہیں کرسکتے‘ یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہے ان کو یہ توقع تھی کہ امریکا آج نہیں تو کل خطے سے چلا جائے گا اور پاکستانی قومی مفاد میں یہ ہوگا کہ سیکولر افغان حکومت کی بجائے پھر سے طالبان کی حکومت آجائے حالانکہ سیکولر افغان حکومت پاکستان کے مفاد میں تھی جیسا کہ 1965ءاور 1971ءکی جنگوں میں یہ بات ثابت ہوگئی کہ سیکولر افغان قوم پرست صرف گفتار کے شیر ہیں ان میں نقصان دینے کی کوئی سکت نہیں جبکہ ان کی نسبت طالبان کئی گنا زیادہ خطرناک ہیں۔ جب پاکستان نے کچھ مخصوص مذہبی گروہوں کے خلاف کارروائی کی تو اسی دوران تحریک طالبان پاکستان (TTP) وجود میں آئی جنہوں نے کئی مسلح کارروائیاں پاکستان کے اندر کیں‘ پاکستانی اشرافیہ کو یہ غلط فہمی تھی کہ ٹی ٹی پی کو صرف اس وقت کی افغان حکومت کی مدد حاصل ہے اور امریکی انخلاءکے بعد جب طالبان حکومت میں آئیں گے تو ٹی ٹی پی کی کوئی مدد نہیں کریں گے اور وہ اپنی موت آپ مرجائیں گے حالانکہ ٹی ٹی پی علل اعلان یہ اطراف کرچکی تھی کہ ملا عمر ان کے سپریم لیڈر ہیں اور اس وقت بھی ان کو افغان حکومت کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی بھی مدد حاصل تھی گزشتہ سال جب امریکا کا افغانستان سے انخلاءہوا اور طالبان نے دو ہفتے کے اندر ہی افغانستان پر پھر سے قبضہ کرلیا تو پاکستانی اشرافیہ کو ان سے بہت سی امیدیں وابستہ تھیں انہیں یہ توقع تھی کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی اور بلوچ عسکریت پسند جو افغانستان میں قیام پذیر ہیں ان کے خلاف کارروائی کرے گا اور ان کے اہم رہنماﺅں کو پاکستان کے حوالے کردے گا۔ اس کے علاوہ ان کو افغانستان کی صورت میں خطے میں اسٹریجک ڈیپتھ ملے گی اور وہ افغانستان کو اپنے دوسرے دفاعی لائن کے طور پر استعمال کریں گے اس کے علاوہ افغان طالبان پاکستان کے احسان تلے دب کر اس دفعہ ڈیورنڈ لائن کو بھی بین الاقوامی سرحد قبول کرلےں گے۔
لیکن جب طالبان حکومت میں آئے تو انہوں نے پاکستان کی ساری خوش فہمیاں دور کردیں انہوں نے ڈیورنڈ لائن کو تسلیم کرنے سے پھر سے انکار کردیا اور پاکستان کی طرف سے اس پر لگائے گئے باڑ کو بھی اکھاڑ کر پھینک دیا‘ اس کے علاوہ محسوس یوں ہورہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ساتھ بلوچ عسکریت پسندوں کے کیمپ بھی وہاں موجود ہیں اور ان دونوں گروہوں کی کارروائیوں میں امریکی انخلاءکے بعد تیزی سے شدت آئی ہے۔ کچھ عرصے قبل غالباً افغان طالبان کو خوش کرنے کے لئے پاکستان نے ٹی ٹی پی سے جنگ بندی کا اعلان کیا اور ان کے کئی بندیوں کو بھی رہا کیا جس سے ٹی ٹی پی کو منظم ہونے کا موقع ملا اور 5 مہینے کے اندر ہی انہوں نے اس جنگ بندی کو ختم کردیا اور پھر سے جنگ کا اعلان کردیا۔ ٹی ٹی پی افغان طالبان سے وابستگی کا اظہار کرچکی ہے اور ہیبت اللہ اخوند زادہ کو اپنا سپریم لیڈر مانتی ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ اس جنگ کا اعلان انہوں نے افغان طالبان کی مشاورت کے بغیر کیا ہوا۔ جنگ کے ماہر تعلیم یہ لکھتے ہیں کہ جنگیں عموماً تین قسم کی ہوتی ہیں ایک کو انٹر اسٹیٹ جنگ کہتے ہیں جو دو ممالک کے درمیان لڑی جائے‘ ایک کو انٹرنیشنل جنگ کہتے ہیں جس میں کئی ممالک شامل ہوتے ہیں اور تیسری جنگ کو انٹرا اسٹیٹ جنگ کہتے ہیں یہ جنگ ریاست کے اندر ہی لڑی جاتی ہے۔ ماہر تعلیم باقی دو جنگوں کی نسبت انٹرا اسٹیٹ جنگ کو بہت پیچیدہ قرار دیتے ہیں اس میں عموماً دو فریق ہوتے ہیں ایک ریاست اور دوسرے غیر ریاستی عناصر، ریاست کی نسبت غیر ریاستی عناصر کی تعداد کم ہوتی ہے اور ان کو یہ علم ہوتا ہے کہ اگر آمنے سامنے جنگ ہوئی تو ان کو زیادہ نقصان ہوگا اور ان کی تحریک جلدی ختم ہوجائے گی اسی لئے وہ گوریلا جنگ کا انتخاب کرتے ہیں اسی وجہ سے باقی دو جنگوں کی نسبت انٹرا اسٹیٹ جنگ کافی دیر تک جاری رہتی ہے۔ کرد ترکی میں پچھلے 100 سال سے گوریلا جنگ لڑرہے ہیں اسی طرح فلسطینی گزشتہ 74 سالوں سے اسرائیل میں یہ جنگ لڑرہے ہیں اور گوریلا جنگ کو شکست دینا کسی بھی ریاست کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ سپر پاور امریکا کو بھی اس میں متعدد بار شکست کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جب امریکا نے ویتنام پر حملہ کیا تو ویتنامیوں نے اسی گوریلا جنگ کا انتخاب کیا اور امریکا کو شکست ہوئی‘ افغانستان اور عراق کی حکومتوں سے جب امریکا لڑا تو امریکا نے ایک مہینے کے اندر ہی ان کی حکومتوں کو شکست دی لیکن جب امریکا کو افغان اور عراقی گوریلاجنگ کا سامنا ہوا تو وہ اس کے آگے بے بس ہوگئے۔
ٹی ٹی پی یوں تو پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے لیکن ان کی طاقت کا گڑھ وزیرستان اور وانا جیسے علاقے ہیں جوکہ گوریلا جنگ کے لئے کافی مفید ہیں وہاں جنگلات بھی ہیں اور اونچی پہاڑیاں اور ان کو سرحد پار کرنے کی بھی سہولت میسر ہے وہ کسی وقت بھی حملہ کرکے افغانستان فرار ہوسکتے ہیں اس کے علاوہ ان کے پاس بڑی تعداد میں خودکش حملہ آوروں کا بھی اسکواڈ ہے امریکا کی مدد سے اسرائیل دفاعی تکنیکی حوالوں سے کافی مضبوط ہے انہوں نے فلسطینی گوریلا کے حملوں کو کافی حد تک روکا لیکن جب فلسطینی جنگجوﺅں نے خودکش حملوں کااستعمال کیا تو اس کے آگے اسرائیل جس کی انٹیلی جنس دنیا میں سب سے زیادہ منظم ہے وہ بھی ان خودکش حملہ آوروں کے سامنے بے بس ہوگئی۔ تمام واقعات سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان ایک نہ ختم ہونے والی انٹرا اسٹیٹ جنگ میں جاچکا ہے اب پاکستان کو افغانستان میں کوئی اسٹریجک ڈیپتھ نہیں بلکہ افغانستان کو پاکستان میں اسٹریجک ڈیپتھ حاصل ہے۔
جیسا کہ پاکستان کو توقع تھی کہ وہ افغان طالبان کے ذریعے بھارت پر دباﺅ بناسکتا ہے یہ غلط ثابت ہوا‘ کہا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی اور بھارت کا گٹھ جوڑ ہے مشہور کہاوت ہے کہ دشمن کے دشمن دوست ہوتے ہیں اور افغان طالبان اور بھارت کے درمیان بھی معاملات طے پاچکے ہیں اور بھارتی سرکاری وفد کچھ عرصے قبل افغانستان کا دورہ بھی کرچکا ہے پاکستانی اشرافیہ کو اس بات کا بھی ادراک نہیں ہوا کہ بھارت اور افغانستان کی نہ کوئی سرحد ملتی ہے اور نہ ہی ان کے درمیان کوئی سرحدی تنازع ہے جبکہ ان کا اپنا زمینی تنازع افغانستان کے ساتھ ہے۔ رانا ثناءاللہ یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ٹی ٹی پی کے اڈوں پر افغانستان کے اندر بھی کارروائی کرسکتے ہیں ایسا کیا تو صورت حال مزید گمبھیر ہوجائے گی۔ افغانستان ایک خطرناک ملک ہے جس کے پاس کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں‘ شاید افغانستان کے امیر ظاہر شاہ کی بات اب درست ثابت ہورہی ہے کہ افغانستان مغرب سے پاکستان کو تنگ کررہا ہے اور بھارت کسی وقت بھی مشرق سے تنگ کرسکتا ہے فرق یہ ہے کہ اس وقت کے افغانستان کے امیر طالبان کے برعکس صرف گفتار کے شیر تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں