سندھ اور پنجاب سے آٹے کی سپلائی بھی روک دی گئی، بیرون ملک اسمگلنگ بند کرنا ہوگی، سیکرٹری خوراک بلوچستان

کوئٹہ (انتخاب نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی ہدایت پر گند م اور آٹے کے بحران اور اسکے حل کے لئے منعقدہ اجلاس میں گوداموں میں دستیاب گندم کی فلور ملوں کو اجراکے طریقہ کار اور نرخ سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے اجلاس میں وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری عمران گچکی، سیکرٹری خوراک ایاز مندوخیل، ہیڈ کوارٹر 12 کور کے نمائندے، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ، ڈی جی فوڈ سمیت دیکر متعلقہ حکام سمیت فلور مل ایسوسی ایشن کے نمائندے بھی موجود تھے سیکرٹری خوراک کی جانب سے شرکا کو گندم کے بحران کے پس منظر اور گند م کے حصول کے اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلوچستان کی گندم کی سالانہ ضرور ت ایک کروڑ 20 لاکھ بوری ہے۔ رواں سال 396000 بوری گندم خریدی گئی۔ بحران کی وجہ پنجاب اور پاسکو کی جانب سے گندم کی فراہمی سے انکار ہے۔پنجاب اور سندھ کی جانب سے آٹے کی سپلائی روک دی گئی ہے۔صوبائی حکومت نے صوبہ پنجاب اور پاسکو سے 4 لاکھ بوری گندم خریدنے کی درخواست کی ہے۔پاسکو سے سرکاری نرخ پر 2لاکھ بوری گندم کی خرید کو حتمی شکل دینے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر10 ہزار بوری گندم کی سپلائی کا آغاز ہو گیا ہے۔پنجاب اور سندھ سے آٹے کی سپلائی کی بحالی کی کوششیں کی جارہی ہیں۔وزیراعلی بلوچستان میر عبد القدوس بزنجو کے توسط سے وفاقی حکومت پنجاب اور سندھ حکومت سے گندم کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی۔سندھ اور پنجاب سے بلوچستان کو آٹے کی سپلائی پر عائد پابندی ہٹانے کی درخواست بھی کی جائیگی۔ آٹے کی بیرون ملک اسمگلنگ کی مکمل روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔آٹا ملوں کے تعاون سے مزید آٹا سیل پوائنٹ قائم کئے جائیں گے۔تاکہ لوگوں کی مشکلات کو حل کیا جاسکے۔ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق آٹے کی ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن پیدا کیا جائے گا۔ایران سے منسلک سرحدی علاقوں کے عوام کو ایران سے آٹے کے حصول کو آسان بنایا جائے گا۔۔اجلاس میں آٹے کی عدم دستیابی کے چیلنج سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے تمام وسائل برو ے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو اس آٹے اور گندم کے بحران سے نجات دلائی جاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں