بلوچستان میں درسی کتب کی عدم فراہمی سے 15 سو اسکول بند اور لاکھوں طلبہ کی تدریس متاثر ہوگی، نیشنل پارٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماپروفیسر ڈاکٹر عبدالحلیم نے کہا ہے کہ حکومت کی عدم توجہ اور دلچسپی کی وجہ سے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو نئے تعلیمی سال کے آغاز کے لئے درسی کتب کی چھپائی کے حوالے سے گزشتہ برس جولائی سے فنڈز ریلیز نہ ہونے کی وجہ سے 15000 تعلیمی اداروں کے بند ہونے اور 11 لاکھ بچوں کا تعلیمی نقصان ہوگا، یہاں جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں نیا تعلیمی سال یکم مارچ کو شروع ہوجاتا ہے سرکاری تعلیمی اداروں کو فروری کے شروع میں محکمہ تعلیم اور حکومت بلوچستان کی جانب سے درسی کتب کی فراہمی شروع کی جاتی ہے کیونکہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ درسی کتب نجی پرنٹنگ پریس اور پبلشرز سے چھپو اکر تعلیمی اداروں کو بروقت فراہمی ممکن بناتے ہیں تاکہ بچوں کو نئے تعلیمی سال کے آغاز میں درسی کتب کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ گزشتہ برس جولائی سے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو حکومت کی جانب سے درسی کتب کی چھپائی کے لئے فنڈز ریلیز نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے نجی پرنٹنگ پریس کو بھی ادائیگیاں ممکن نہیں بنائی جارہی کیونکہ پرنٹنگ پریس مالکان ادھار میں درسی کتب کی چھپائی ممکن بناکر بروقت بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو درسی کتب فراہم کرتے ہیں لیکن جب فنڈز کی بروقت ادائیگی ممکن نہیں بنائی جاتی تو ان کے لئے بھی مشکلات درپیش آتی ہے جس کی وجہ سے پرنٹنگ پریس کے مالکان بڑھتی ہوئی مہنگائی، کاغذ، روشنائی اور دیگر سامان کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں۔ حکومت فوری طور پر بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کو فنڈز ریلیز کریں تاکہ پرائیویٹ پرنٹنگ پریس مالکان کو ادائیگی ممکن بناسکیں۔ اگر ادائیگی فوری طور پر نہ کی گئی تو 15000تعلیمی ادارے بند ہونے اور ان میں زیر تعلیم 11 لاکھ بچوں کا تعلیمی سال بروقت شروع نہیں ہوسکے گا اور ان کا تعلیمی حرج ہوگا وزیر اعلی بلوچستان اور صوبائی وزیر تعلیم اور چیف سیکرٹری بلوچستان اس کا نوٹس لیں اور فوری طور پر فنڈز کی فراہمی کو ممکن بنائیں۔


