لاکھوں افراد کے روزگار سے وابستہ کول مائنز صنعت کو تحفظ دیا جائے، نیشنل ڈیمو کریٹک موومنٹ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں کول مائینز کے کاروبار اور عوام کی جان ومال کی تحفظ ریاست اور صوبائی حکومت کی آئینی وقانون ذمہ داری ہے۔ فورسز کا کول مائینز پر جبری رقم وصول کرنے کا غیر قانونی اقدام بھتہ کے زمرے میں آتا ہے۔ 2014 ء سے 2021 ء تک فورسز نے 30 ارب سے زاہد رقم براہ راست غیر قانونی طور پر جبری طریقے سے وصول کیے ہیں۔جس کا تمام ریکارڈ اور ثبوت مائینز اونرز اور ایسوسی ایشن کے پاس موجود ہے اور 2021 ء کے بعد دھمکیوں اور کول مائنز کو جلاکر مزدوروں کو دھمکا کر مختلف بینک اکاؤنٹس، موبائل فون اور پرچیوں کے ذریعے اب تک ماہانہ کروڑوں روپے کی بھتہ خوری جاری ہے، گزشتہ دنوں خوست اور شاہرگ میں فورسز کی موجودگی میں درجنوں کول مائینز کی مشینری کو جلاکر کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا گیا جس سے صوبائی حکومت، سول انتظامیہ اور تمام ادارے بخوبی آگاہ ہیں اور بھتہ گیری و تخریب کاری کا یہ ناروا عمل سیکورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کی سرپرستی اور پشت پناہی کے بغیر ناممکن ھے۔بیان میں کہا گیا ھے کہ صوبے میں کول مائینز کی صنعت سے لاکھوں افراد کا ذریعہ معاش وابستہ ہے اور ملک میں کارخانوں، اینٹ کے بھٹوں کی صنعت اور ایندھن کی ضرورت کا انحصار کوئلے پر ہیں اور اسی طرح کوئلے کے فی ٹن پر سیلز ٹیکس، رائلٹی کی مد میں حکومتی خزانے میں جمع ھوتے ہیں اور اسی طرح انکم ٹیکس، سالانہ رینٹ سمیت مجموعی طور پر سالانہ اربوں روپے خزانے میں جمع ھوتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود حکومت اس صنعت کو تحفظ دینے میں ناکام ھے اور حکومتی فورسز سیکورٹی کے نام پر جبری رقم طلب کرنے کی غیر آئینی و غیر قانونی سرگرمیوں میں مصروف ھے جس کیلئے جبری معاہدے مسلط کیے جارھے ہیں جو غیر آئینی و غیر قانونی ھونے کے ساتھ ساتھ ایف سی کا مینڈیٹ نہیں۔بیان میں کہا گیا ھے کہ صوبے میں حکومت اور سول انتظامیہ کی رٹ و اتھارٹی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے اور تمام معاملات پر پیراملٹری فورس کا کنٹرول ہے لہذا صوبے کے اقوام و عوام سے متعلق اس آمرانہ پالیسی اور مائینڈ سیٹ کو فوری طورپر بدلنے کی ضرورت ھے اور سول معاملات اور عوام کی تجارت و کاروبامیں مداخلت اور وسائل پر طاقت کے ذریعے قبضہ کرنے کی پالیسی ترک کرنی ھوگی اور بھتہ گیری سمیت تمام غیر قانونی جبری معاہدوں کو مسلط کرنے سے گریز کرکے ملکی آئین وقانون کی پابندی کرنا ھوگی جس سے صوبے میں امن قائم ہوگا اور تجارت و کاروبار کو فروغ ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں