موروثیت پر قائم جماعتیں پاکستان میں جمہوریت کے قیام کا ذریعہ نہیں بن سکتیں، مولانا شیرانی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) جے یو آئی پاکستان کے مرکزی قائد مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈر پہلے یہ طے کرلیں کہ وہ پارٹیوں کے اندرونی نظم کیلئے شریعت بادشاہت اور جمہوریت میں سے کونسا عنوان اور طریقہ کار پسند کرتے ہیں شریعت میں سربراہ کا تقرر اہل حل وعقد کے جانب سے ہوتا ہے بادشاہت میں باپ کو حاصل تمام حیثیتیں اور اختیارات میراث کے ذریعے اس کے اولاد کو منتقل ہو جاتے ہیں جبکہ جمہوریت میں کسی کا عزل و تقرر انتخاب کے طریقے سے ہوتاہے بظاہر لیڈروں کا منشا یہ معلوم ہوتاہے کہ پارٹیوں کے اندر بادشاہت کے طریقے سے موروثیت ہو ملکی نظام میں مطالبہ جمہوریت کا ہو جبکہ عوام کو اپنے پیچھے لگانے کیلئے شریعت کے نفاذ کو کاغذی منشور بنایا جائے انہوں نے کہا ہے کہ موروثیت پر قائم جماعتیں ملک میں جمہوریت کے قیام کا ذریعہ نہیں بن سکتیں لہٰذا سیاسی جماعتوں کو پہلے اپنے طور پر یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جمہوریت اور بادشاہت میں سے کس کی علمبردار بنتی ہیں اگر وہ پارٹیوں کے اندر بادشاہت کے اصول کو تسلیم کرتی ہیں تو ملکی سطح پر جمہوریت کے دعوؤں سے دستبردار ہونا پڑے گا اور اگر جمہوریت کا دعوہ کرتی ہیں تو جمہوریت میں جماعت کے مالکانہ حقوق وراثت کے ذریعے باپ سے اولاد کو منتقل نہیں ہوتے کیونکہ وراثت کے ذریعے اولاد کو منتقل ہونے والا باپ کا ترکہ اولاد کا تا حیات استحقاق ہوتاہے جبکہ جمہوریت میں متعین مدت کیلئے انتخاب صلاحیت کے بنیاد پر ہوتاہے انہوں نے کہا ہے کہ جو لیڈر وراثت کے ذریعے اپنا استحقاق بھی ثابت کرتا ہو اور پارٹی کے اندر انٹرا پارٹی الیکشن کا بھی انعقاد کرتا ہو تو یہ الیکشن صرف دکھاوے کیلئے ہوتے ہیں اور ایسے نام نہاد الیکشنز کو وراثت کے حق میں استعمال کرنے کا بہترین راستہ خیانت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں