حب قیمتی سرکاری اراضیات کی لوٹ سیل کا بازار گرم

حب(نمائندہ انتخاب) حب قیمتی سرکاری اراضیات کی لوٹ سیل کا بازار گرم ایک طرف لینڈ مافیا سرگرم تو دوسری جانب سٹلمنٹ کی آڑ میں بااثر سیاسی وقبائلی شخصیات اور بدنام زمانہ لینڈ گر یپرز کو بانٹی جانے لگیں جبکہ صدیوں سے آباد مقامی افراد مالکانہ حقوق سے محروم ہیں نئے ڈسٹرکٹ حب کیلئے سرکاری دفاتر افسران کیلئے رہائشگاہوں کے قیام اسکول کالجز یونیو رسٹی اسپورٹس کمپلیکس پارکس دیگر انفراسٹرکچر کیلئے سرکاری اراضیات ناپید ہونے کے خدشات پیدا ہوگئے متعلقہ سرکاری ادارے مبینہ ملی بھگت میں شامل ہو گئے اور سرکار خواب خر گوش کا شکار ہو گئی کوئی پرسان حال نہیں اس حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ ضلع لسبیلہ اور حب میں سرکاری زمینوں پر لینڈ مافیا کا قبضہ اور انکی فروخت کا سلسلہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے تاہم حالیہ دنوں جب نئے ضلع حب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تب سے اس دھندے میں مزید تیزی آئی ہے ایک طرف بدنام زمانہ لینڈ گر یپرز لاڈلے بنے ہوئے ہیں جنہیں سرکاری اداروں کی جانب سے سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے انہیں فروخت کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے تو دوسری جانب درستگی کھاتہ بندوبست کی آڑ میں صدیوں سے مقامی قبائلی کے تصرف قیمتی اراضیات کو بعض مقامی افراد کو مبینہ طور پر لالچ اور انکے سادہ پن کا فائدہ اٹھا کر اندرون بلوچستان اور سندھ کراچی سے حب کا رخ کرنے والے بااثر سیاسی قبائلی لیبل استعمال کر کے انہیں موروثی بزگر کے کھاتے میں الاٹ کر کے باقاعد طور پر کھتونیاں جاری کی جارہی ہیں جبکہ قانونی طور پر بندوبست کھاتہ کو کتھونی کے اجراء کا اختیار حاصل نہیں انہیں صرف نشاندہی کے بعد ریکارڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور رجسٹری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں لیکن یہاں کوئٹہ سے حب تک ملی بھگت کی زنجیر کی کڑیاں اُلٹی گنگا بہہ کر اس میں غو تے لگانے میں مصروف عمل ہے بتایا جاتا ہے کہ بندوبست کھاتہ 1968ء میں مکمل کیا جاچکا ہے لیکن اسکے باوجود دوبارہ سٹلمنٹ کا کام شروع کر کے حب کے مختلف موضاجات کا ریکارڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ سے لیکر سٹلمنٹ عملے کے حوالے کیا گیا ے جو کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجو د دوبارہ ریونیو عملے کے حوالے نہیں کیا جارہا ذرائع بتاتے ہیں کہ پیرکس اور حب مغربی بائی پاس کے قرب وجوار میں اندرون بلوچستان کی بعض بااثر سیاسی وقبائلی شخصیات کو قیمتی سرکاری اراضیات الاٹ کرنے کا سلسلہ جاری ہے ذرائع کے مطابق پیرکس ڈیم کے قریب ایک بااثر شخصیت کو مبینہ طور پر دو ہزار ایکڑ اراضی مبینہ ملی بھگت سے الاٹ کی گئی ہے اسی طرح سے موضع چیچائی گڈانی اور بیروٹ موضع حب کا ریکارڈ بھی سٹلمنٹ عملے کے حوالے کرنے کے احکامات اوپر سے صادر کر دیئے ہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور ایک جانب لینڈ مافیا کے سامنے آنکھیں بند رکھنے اور انہیں سرکاری زمینوں پر قبضہ کر کے انکی لوٹ سیل کی اجازت دی جاتی رہی اور دوسری طرف سٹلمنٹ کی آڑ میں مقامی قبائل کے حقوق پر ڈاکہ ڈال کر بعض افراد کی ملی بھگت سے غیر اضلاعی بااثر سیاسی و قبائلی شخصیات کو زمین بانٹی جاتی ہیں تو حال ہی میں وجود میں لائے گئے نئے ضلع حب کے سرکاری دفاتر،تعلیمی اداروں سمیت غیر نصابی سرگرمیوں اور عوامی فلاح وبہود کیلئے کسی بھی سرکاری بلڈنگ پارک کیلئے حب میں کوئی بھی سرکاری زمین باقی نہیں رہے گی جس سے آئندہ آنے والے وقت میں حکومتی اداروں کو اپنی عمارتیں تنصیبات کے قیام اور انفراسٹرکچر کے قیام میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
0

اپنا تبصرہ بھیجیں