بلوچستان کے وفاق پر 75 ارب روپے کے واجبات ہیں، ادائیگی نہ ہونے سےمسائل بڑھ رہے ہیں،فرح عظیم شاہ

کوئٹہ(انتخاب نیوز) ترجمان بلوچستان حکومت فرح عظیم شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی کے ذمہ این ایف سی ایوارڈ اور پی پی ایل کے واجبا ت مل کر کل 75ارب روپے واجبات ہیں ، صوبے میں جلد آٹے کے بحران پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا، گراں فروشوں کے خلاف کاروائیوں کیلئے مانیٹرنگ ٹیمیں بنائی گئی ہیں،ذخیرہ اندوزوں کے خلاف انتظامیہ کاروائی کی جارہی ہے،ریکوڈک منصوبہ کامیابی کے ساتھ انجام کو پہنچا ہے، ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی بڑی سرمایہ کاری ہوگی، منصوبے پر پروپیگنڈہ کیا جارہاہے، صوبائی حکومت گیس کے ذ خائر دریافت کرنے حوالے سے جلد اہم فیصلے کریگی ۔ یہ بات انہوں نے پیر کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ دائریکٹر جنرل خوراک کے ہمراہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔ ترجمان صوبائی حکومت فرح عظیم شاہ نے کہا کہ سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتی ہوں، ایسے اقدامات سے عالمی سطح پر امن و امان خراب ہونے کا خدشہ موجود ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوام کو آٹا بحران کے باعث پریشانی کا سامنا رہا،بلوچستان کی سالانہ ضرورت ایک کروڑ 52 لاکھ گندم کی بوریاں ہے، پنجاب اور سندھ سے گندم کی ضرورت پوری کرتے ہیں،سیلاب کے باعث گندم خراب ہوئی جو خریدی نہیں جاسکی، وفاق نے گندم خوراک پر سبسڈی مقرر کی تھی۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو ستمبر میں 4 لاکھ 96 ہزار بوریاں محکمہ خوراک بلوچستان کو موصول ہوئیںجو جنوری تک استعمال کی گئیں گندم زخائر ختم ہوئے تو پنجاب اور سندھ نے بھی آٹا برآمد پر پابندی عائد کردی جس کے بعد ہنگامی بنیادوں پر پاسکو سے 2 لاکھ گندم کی بوریوں کا معائدہ کیا گیا، انہوں نے کہا کہ صوبے کو دو لاکھ گندم کی بوریاں موصول ہوچکی ہیں جبکہ مزید 2 لاکھ پاسکو دے گا، سستا آٹا پوائنٹس پر عوام کو رعایتی ریٹ پر آٹا فراہم کیا جارہاہے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی اور پی پی ایل کے تحت بلوچستان کے 75 ارب روپے کے واجبات ہیں وفاق کو واضح کیا ہے کہ واجبات کی ادائیگی نہ ہونے سے صوبے کے مسائل بڑھ رہے ہیں، وزیراعظم نے جو اعلانات سیلاب متاثرین بحالی کیلئے کئے امید ہے وہ پورے ہوں گے، انہوں نے کہا کہ حکومت محدود وسائل میں اقدامات اٹھا رہے ہیں، مردم شماری کے حوالے سے ہماری اچھی تیاری ہے، وزیراعلی جلد ہی گیس کے ذخائر کی دریافت کے حوالے سے مختلف اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں