دو پاکستان کا تصور ملک کو مزید کمزور کریگا، پشتون علاقوں کو انتہا پسندوں کی محفوشٍظ جنت بنایا جارہا ہے، اے این پی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ دوپاکستان کا تصور ملک کو مزید کمزور کرنے کا موجب بنے گا، چارسو بے گناہ افراد کا قاتل بری جبکہ پشتون رکن پارلیمان علی وزیر بارہا عدالتوں کی ضمانت کے باوجود پابند سلاسل ہے، پشتونوں کی سرزمین پر تخریب کاری، وسائل کو لوٹنے کیلئے مسلط کیا جارہا ہے، سوات، بنوں، وزیرستان، ہرنائی، چمن میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ گیری اور اسے ایک بار پھر انتہا پسندوں کی محفوظ جنت ثابت کرنے کیلئے رچایا جارہا ہے، امپورٹڈ الیکٹیبلز حقیقی قوتوں کی متبادل ثابت نہیں ہوسکتا وہ چاہے عمران، شوکت عزیز، معین قریشی ہی کیوں نہ ہو اگر حکمران اشرافیہ باچاخان اور ولی خان کے مشوروں پر عمل درآمد کرتے تو آج ملک اس تناو¿ اور بے یقینی سے دوچار نہ ہوتا جس سے یہ گزر رہا ہے، ان عظیم ہستیوں کا مشن مشعل راہ ہے، فکر باچاخان کے تسلسل کے طور پر عوامی نیشنل پارٹی صد سالہ جدوجہد کو کامیابی سے ہم کنار کرانے کیلئے پرامن جمہوری جدوجہد کررہی ہے۔ ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر وصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی، صوبائی وزیر خزانہ وخوراک انجینئر زمرک خان اچکزئی، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری جنرل صاحب جان کاکڑ، صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا، ضلعی صدر جمال الدین رشتیا، صوبائی پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ ملک نعیم خان بازئی صوبائی نائب صدر پارلیمانی سیکرٹری شاہینہ کاکڑ مرکزی جوائنٹ سیکرٹری چاندنی کاکڑ صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالباری آغا ضلعی جنرل سیکرٹری نذرعلی پیرعلی زئی ضلعی سنئیر نائب صدر شان عالم کاکڑ ضلعی ترجمان اخلاق بازئی نے کوئٹہ پریس کلب میں فخر افغان رئیس الاحرار خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان کی 35ویں اور رہبر ملی قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 17ویں برسی کے موقع پر ان کی یاد میں منعقدہ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مقررین نے خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان اور رہبرِ ملی قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کو انہیں ان کی قومی آزادی بنیادی انسانی حقوق حقیقی جمہوریت صوبائی خودمختاری سماجی انصاف امن کے قیام جمہور کی حکمرانی آزاد اور خودمختار عدلیہ اور میڈیا کے لئے کی گئی لازوال جہد اور قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بر صغیر پاک وہند سے انگریز سامراج کی حکمرانی کا خاتمہ باچاخان اور ان کے رفقائے کار خدائی خدمت گاروں کی جہد کے بدولت ممکن ہوا عدم تشدد اپناتے ہوئے انہوں نے پشتونوں میں اس کا پر چار کیا اور علم وہنر کے مراکز کھولے اس کی پاداش میں انہوں نے انگریز سامراج کے دور اور بعد ازاں ملک بننے کے بعد بھی زندگی کے قیمتی 34سال جیل میں گزارے جلاوطنی اور ٹارچر سیلوں میں اذیتیں برداشت کئے آج نہ صرف ملک کے اندر حکمران اشرافیہ باچاخان کے افکار اور ان کی سوچ ونظریہ کو درپیش سنگین قومی معاشی چیلنجوں کا واحد حل سمجھتے ہیں بلکہ خطہ کو درپیش مشکلات سے نجات کا واحد راستہ فکر باچاخان ہی کو گردانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح خان عبدالولی خان نے جمہوریت کی بقا کیلئے ملک میں آمریت کا مقابلہ کیا جوانی کے قیمتی 17سال جیلوں میں گزارے جمہوریت کی بحالی میں رہنما کردار ادا کیا 73 کا آئین بھی خان عبدالولی خان اور ان کے رفقائے کار کی مرہون منت ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی فکر باچاخان کے تسلسل کے طور پر پرامن جمہوری جدوجہد کو دوام دے رکھی ہے 18ویں ترمیم جمہوری جماعتوں کی رہنما کردار کی بدولت پاس ہوا لیکن گزشتہ 10سالوں سے اسے رول بیک کرنے کیلئے مختلف ڈاکٹرائن سرگرم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی حقیقی جمیوریت کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ آج ایک بارپھر ملک باالخصوص باچاخان کے مسکن پشتون خوا میں انتہاپسندی مسلط کی جارہی ہے، سوات، بونیر، دیر، باجوڑ، خیبر، بنوں، لکی مروت، وزیرستان، ہرنائی، چمن میں ٹارگٹ کلنگ، اغوا، بھتہ گیری کو فروغ دیا جارہا ہے، جس کے نہ کل اور نہ ہی آج دیرپا اور مثبت نتائج برآمد ہوسکیں گے ضرورت اس امر کی ہے ان قوتوں کا محاسبہ کیا جائے، جنہوں نے انتہا پسندوں کو ایک بارپھر پشتونخوا کی در و دیوار کو نیست ونابود کرنے کیلئے انہیں یہاں پر مہمان بنایا لیکن اب کی بار پشتون من حیث القوم اس ناسور کو مسلط نہیں ہونے دیگا جو درحقیقت عوامی نیشنل پارٹی کی اصولی موقف کی تائید ہے مقررین نے کہا کہ ریاستی ستون آج بھی دہرا معیار رکھتا ہے راو¿ انور جیسے قاتل کو ضمانت جبکہ رکن پارلیمان علی وزیر بارہا ضمانت کے باوجود عدم رہائی پشتون لوکل ڈومیسائل میٹر کرتا ہے پر مہر ثبت ہے جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں افغانستان کی رواں حالات پر گہری تشویش ہے جہاں تمام بنیادی انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہے وہاں پر بچوں اور بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند خواتین پر تشدد جاری جبکہ صحت کے سہولیات ناپید اور خوراک کی کمی ہے اس گمبھیر صورت حال کا اقوام متحدہ اور مترقی و جدید دنیا کو نوٹس لینا ہوگا مقررین نے ہفتہ باچاخان کے انعقاد پر تمام ضلعی تنظیموں بنیادی یونٹوں کارکنوں اور ذمہ داروں کو بھر پور طریقے سے منانے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ماضی کی مانند امسال بھی ملک بیرون ملک ہفتہ باچاخان کے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے اس سلسلے میں 28 اور 29 جنوری کو اسلام آباد کنونشن سینٹر میں دو روزہ سیمینار بعنوان باچاخان ولی خان اور اکیسویں صدی کے تقاضے۔ منعقد ہوگا جس کے ملک اور خطے کے حالات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے سیمینار میں ملک بھر کی قومی سیاسی مذہبی قیادت ادیب لیکوال دانشور شعرا لکھاری اظہار خیال کرینگے بعد ازاں فخر افغان باچاخان رہبر تحریک خان عبدالولی خان سمیت پشتون قومی تحریک کے تمام اکابرین اور شہدا کی ایصال ثواب اور درجات بلندی کیلئے دعا کی گئیں۔


