جامعہ بلوچستان میں دکانوں کا ٹینڈر غیر قانونی قرار، منسوخ کیا جائے، جوائنٹ ایکشن کمیٹی
کوئٹہ (انتخاب نیوز) جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاھ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، پروفیسر فرید خان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، گل جان کاکڑ اور دیگر نے اپنے ایک مشترکہ مذمتی بیان میں جامعہ بلوچستان کی انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ دنوں جامعہ کے مین کیمپس میں مختلف دکانوں کو ٹینڈر کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ان دوکانوں کو قانونی چارہ جوئی کے بعد لیز پر دیا گیا جس کے لئے اس مہنگائی میں الاٹ ھونے والے غریب لوگوں نے لاکھوں روپے خرچ کرکے اپنا کام شروع کیا اور جامعہ کی جانب سے سردمہری اور سہولیات کی فقدان کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت معیاری سروسز فراہم کرتے رہےاور وقتا فوقتا جامعہ کے تمام شرائط بھی پوری کرتے رہے لیکن اب اچانک لیز شدہ دوکانوں کو دوبارہ ٹینڈر کیا گیا جو ان غریب لوگوں کے ساتھ سراسر زیادتی ہے جسکی کسی صورت اجازت نہیں دی جاسکتی۔بیان میں یونورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس ٹینڈر کو فوری طور پر منسوخ کرکے لیز شدہ دوکانوں کے مالکان سے جامعہ کے منظور شدہ قوانین کے مطابق ان کی لیز کو ایکسٹینشن دیاجائے۔اور سی پی سی کے پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیکورٹی سیکشن کے آفیسرز اور گارڈز کی چیکنگ پر اپںے تحفظات سے آگاہ کیا۔


