ایران میں تخریب کاروں کے کیمپ ہیں تو پاکستان ثبوت دے، ان کے ٹھکانوں کو جہنم بنا دیں گے، ایرانی قونصل جنرل
کوئٹہ (انتخاب نیوز) ایرانی قونصل جنرل حسن درویش وند نے کہا ہے کہ ایران پاکستان کی توانائی سمیت دیگر بحرانوں میں مدد کرنے کے لئے تیارہے، ایران نے بھاری سرمایہ کاری کرکے ایران میں گیس پائپ لائن بچھا دی تاہم پاکستان نے تاحال اپنے ملک میں اس حوالے سے کوئی کام نہیں کیا اس کے باوجود ہم عالمی اداروں میں پاکستان کے خلاف شکایت لے کر نہیں گئے تاکہ پاکستان پر جرمانہ عائد نہ ہو، پاکستان کے خلاف ایران کی سر زمین نہ استعمال ہوئی ہے اور نہ ہی ہوگی اور نہ ہی ہماری سرزمین پر تخریب کاروں کے کیمپ یا ان سرگرمیوں کا وجود ہے اگر کوئی شواہد ہیں تو ہمیں مہیا کئے جائیں ہم ان کا قلع قمع کریں گے، پاکستان سی پیک کو گوادر بندر گاہ چاہ بہار کے ساتھ ریلوے روڈ اور فیری کے ذریعے منسلک کرے دونوں ممالک کے مابین ہونے والیً ڈیڑھ ارب ڈالر کی تجارت کے حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچا کر دونوں ممالک کے تاجروں اور بزنس کمیونٹی کو تجارت کے فروغ کے لئے وسیع مواقع فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ایک راہداری پوائنٹ پر تجارت کی سرگرمیوں کو بڑھاتے ہوئے مزید 3 راہداری پوائنٹ پر تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کے علاوہ 6 سرحدی مقامات پر بارڈر مارکیٹ ہم نے اپنے علاقے میں قائم کرلی ہیں پاکستان کی جانب سے بھی قائم کرکے انہیں فعال بنائے ہماری خواہش ہے کہ بارڈر مارکیٹس کی تعداد 9 تک بڑھائی جائے تاکہ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تجارت کے لئے سہولیات اور مواقع میسر آسکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سینئر صحافیوں کے ایرانی قونصلیٹ میں بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر کوئٹہ میں متعین ڈپٹی ایرانی قونصل جنرل پیر لورن بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران دو برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے مابین کئی ہزار سال دیرینہ اسلامی،ثقافتی اور تجارتی تعلقات اور قدیم دوستی ہے ایران پاکستان کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات چاہتا ہے اس مقصد کیلئے دوطرفہ تجارتی تعلقات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں تجارتی اہداف کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ دونوں ممالک کے سرمایہ کاروں کے مابین روابط میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہواور قانونی طریقے سے تجارت کی جائے ماضی میں میرجاوا، تفتان سے تجارت ہوتی تھی جبکہ اب مزید دو نئے تجارتی راستے بنا دیئے گئے ہیں، پاکستان اور ایران کے وزرا خارجہ کے درمیان باہمی روابط اور ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو خوش آئند اقدام ہے گزشتہ دنوں بھی دونوں ممالک کے وزرا خاراجہ کی ملاقات ہوئی، ان ملاقاتوں کے توسط سے تجارت سمیت دیگر امور کے حوالے سے بھی دونوں ممالک میں مزید استحکام پیدا ہوگا اور تجارت کو فروغ ملے گا، اس حوالے سے میڈیا کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے لوگوں کو دونوں برادر اسلامی ممالک کے مابین مضبوط تعلقات کو مستحکم بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک پر سکون پر امن ماحول میں دیگر شعبوں میں مشترکہ طور پر اپنی ثقافت کلچر کو پروان چڑھاتے ہوئے بنیادی انفراسٹرکچر کے ڈھانچے کو مضبوط بنائیں اور دونوں ممالک کی اقتصادی سمیت مشکلات کا ازالہ ممکن بنایا جاسکے۔ دونوں ممالک کے درماین 3 قانونی کراسنگ پوائنٹ ہیں جہاں سے دونوں ممالک کے مابین تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر کی تجارت سالانہ ہو رہی ہے ان تجارتی پوائنٹس میں تفتان میر جاوا،گبد مران اور مند بلو پشین کے مقامات شامل ہیں ہماری کوشش ہے کہ پاکستان کے ساتھ بارڈر پر 6 بارڈر مارکیٹیں قائم ہوں اس سلسلے میں ہم نے اپنے علاقے میں مارکیٹیں قائم کرکے وہاں سہولیات دے کر فعال کردی ہیں پاکستان بھی اپنے علاقے میں مارکیٹیں بنا کر فعال بنائے ہماری خواہش ہے کہ ان مارکیٹوں کی تعداد بڑھا کر 9 تک لے جایا جائے اور پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھاتے ہوئے 5 ارب ڈالر تک لے جائیں جس سے دونوں ممالک کو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران سے اس وقت مکران ڈویژن کو 104 میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ یکم مارچ سے گوادر کو مزید 100 میگا واٹ بجلی فراہم کی جاے گی جس کے بعد بلوچستان کو ایران سے 204 میگا واٹ بجلی ملے گی اور توانائی کے بحران پر قابو پانے پر مدد ملے گی، انہوں نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ بہتر سرمایہ کاری تھی ہم نے 1171 کلومیٹر پائپ لائن اپنے علاقے میں بچھاکر سرحد تک پہنچادی جبکہ پاکستان نے اپنے علاقے میں اس منصوبے کو مکمل نہیں کیا اگر بروقت اس پر عمل ہوتا تو آج پاکستان کو توانائی کے جس بحران کا مسئلہ درپیش ہے وہ نہ ہوتا اس وقت پاکستان ایران کو چاول، آم، کینو سمیت دیگر چیزیں ایکسپورٹ کررہا ہے جبکہ ایرام سے کھانے پینے کی اشیا، سرامیکس، تارکول سمت دیگر اشیا امپورٹ کی جارہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ایران کے قونصل جنرل حسن درویش وند نے کہا کہ ایران نے چاہ بہار، گوادر پورٹ اور سی پیک کے حوالے سے بہت سی مثبت تجاویز اور پیش کش کی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ گوادر اور چاہ بہار کو سمندری، سڑک اور ریل کے زریعے منسلک کیا جائے جس سے خطے کو فائدہ ہوگا ایران نے اپنے ملک میں سنٹرل ایشیاءکے ممالک ترکمانستان ازبکستان سمیت دیگر علاقوں کو ریل سے منسلک کرنے کے لئے ریلوے ٹریک بچھا رہا ہے اور اس کو مزید اپ گریڈ بھی کیا جا رہا ہے تاکہ عالمی معیار کے مطابق بنایاجاسکے زاہدان میر جاوا اور بارڈر تک ریلوے ٹریک بہتر بناتے ہوئے بچھا دیا جو چند ماہ تک مکمل ہو جائے گا، تفتان سے کوئٹہ تک 650 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پرانی اور خستہ ہوچکی ہے اس کو جدید دور کے مطابق اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے اور اس ریلوے ٹریک کے توسط سے پاکستان ایران کے راستے یورپ اور اس کی منڈیوں تک رسائی حاصل کرکے تجارت کو فروغ دے کر زرمبادلہ کما سکتا ہے اور امپورٹ اور ایکسپورٹ میں بھی بہتری لاسکتا ہے اور ایران کے راستے سنٹرل ایشیاءتک ازبکستان تک بھی باآسانی مال پہنچا اور لایاجا سکتا ہے اس کے علاوہ روس سے جو بھی تجارتی سرگرمیاں شروع ہو رہی ہیں ایران سے سرخس ترکمانستان تک ریلوے لائن کے ذریعے ازبکستان تاجکستان اور سینٹرل ایشیا تک 170 کلومیٹر ریل کی پٹڑی بچھا رہے ہیں جس کو ترکی تک لے جایا جائے گا ایران کی خواہش ہے کہ چاہ بہار پورٹ کو ریلوے لائن سڑک اور فیری سروس کے ذریعے منسلک کرکے آمد و رفت اور تجارت کو بڑھاکر معاشی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی جائے، ایران تفتان سے کوئٹہ ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کے لئے ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کے شعبے میں تعاون کے لئے تیار ہے ہماری کوشش ہے کہ جیو پولیٹیکل سے آگے بڑھتے ہوئے جیو فنانس اور اقتصادی طور پر بہتری لائی جائے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجگور میں سیکورٹی فورسز پر حملے کے واقعہ پر ایران نے افسوس کا اظہار کیا ہے پہلے ہی روز پاکستان میں ایرانی سفیر نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے بیان بھی جاری کیا تھا کچھ ایسے عناصر اور لوگ ہیں جو دونوں اطراف وقتا فوقتا مسائل پیداکرنے کی کوشش کرتے ہیں ایسے عناصر سے دونوں جانب کے عوام کو پریشانی ہوتی ہے ان عناصر کی سرکوبی کے لئے دونوں ممالک کی سیکورٹی فورسز کو تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔اگر پاکستان کے پاس ایران کی سرزمین ان کے خلاف استعمال ہونے یا ہماری سر زمین پر تخریب کار گروپوں کی موجودگی کے کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں تو دیئے جائیں ہم ان کے ٹھکانوں کو جہنم بنا دیں گے کیونکہ ہماری سر زمین پر تخریب کاروں کے کوئی بھی محفوظ ٹھکانے نہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین بینکنگ کے سسٹم بہتر بنانے تک تاجروں کو مال کے بدلے مال خریدنے اور فروخت کرنے کی سہولت دی ہے ہم پرامن اور پرسکون ماحول مہیا کرکے امپورٹ اور ایکسپورٹ کے ذریعے اشیا خوردونوش سمیت دیگر سامان کی ترسیل میں ایک دوسرے کو سہولیات فراہم کرکے تعاون کرسکتے ہیں اس سے تاجروں کو فائدہ ہوگا،اس سلسلے میں تفتان بارڈر پر راہداری گیٹ کو بحال کردیا ہے جس سے مقامی لوگوں اور تاجروں کو ایران کے اندر 60 سے 70 کلومیٹر تک کے علاقے میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے 15 روز کے قیام کا ویزہ ملتا ہے جس کے توسط سے وہ سامان بھی لا اور لے جاسکتے ہیں اور تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیں ہماری کوشش ہے کہ ترجیحی تجارت کے فروغ کے لئے تجارتی معاہدے کو عملی جامہ پہنائیں، سنٹرل ایشیا اور روس سے بھی جو تجارت شروع ہورہی ہے اس میں عالمی قوانین کی پابندی کے ذریعے غیر قانونی اور ممنوعہ اشیاءکے علاوہ ہر حوالے سے تعاون فراہم کرتے ہوئے سہولیات دینے کے لئے پل کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں ے کہا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت 27 ارب ڈالر کی اشیا امپورٹ کر رہا ہے ایران 10 سال سے پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری کرنے کا خواہاں ہے اور ہم نے جن منصوبوں کے لئے معاہدے کئے ان پر عمل کیا اگر پاکستان بھی اس پر عمل کرتا تو آج توانائی کے بحران کا شکار نہ ہوتا بعض ممالک ظالمانہ اقدامات کے ذریعے ایران اور پاکستان پر قدغن لگاکر ان کی مشکلات میں اضافہ کرتے ہیں حالانکہ ہمیں اپنے لوگوں کے فائدے کو دیکھنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور تجارتی شعبے میں زیادہ سے زیادہ تعاون کرکے مزید راہیں کھول کے تجارت کو فروغ دیتے ہوئے اپنی معیشت کو مضبوط بناتے ہوئے لوگوں کو روزگار دینا چاہیے،سی پیک کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی پیک کو گوادر تک محدود نہیں ہونا چاہیے اسے وسعت دیتے ہوئے سنٹرل ایشیاءاور دنیا سمیت یورپ تک دیگر ممالک کوبھی اس کا حصہ بنانا چاہیے اور ایران نے پہلے بھی اس کا حصہ بنانے کا برملا اظہار کیا تھا اور آج بھی اس کا حصہ بننے کے خواہاں ہیں تاکہ پاک ایران دونوں ممالک ترقی کریں اور اس منصوبے سے مستفید ہوسکیں سی پیک خطے کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اس حوالے سے جو بھی مسئلے ہیں انہیں مل بیٹھ کر حل کرکے اعتماد کی فضاءکو مزید بحال رکھنا چاہیے۔


