بی پی ایل اے کو لسانی اور تعصب کے ذریعے توڑنے پر تمام عہدیدار مستعفی ہو جائیں، ممبران

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچستان پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (بی پی ایل اے) (پروگریسو پینل)کے ممبران پروفیسر نذیر لہڑی نے کہا ہے کہ بی پی ایل اے کے عہدیداروں نے فرد واحد کیلئے تنظیم کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، گالم گلوچ اور ٹرانسفر پوسٹنگ کے علاوہ ان کی کوئی کارکردگی نہیں،جان بوجھ کر صوبائی وزیرتعلیم اور سیکرٹری تعلیم کیخلاف نازیبا الفاظ استعمال کر کے تنظیم کے بنیادی مقصد سے رو گردانی کی جا رہی ہے، تنظیم کو لسانی اور تعصب کے ذریعے توڑنے جیسی سنگین سازش پر تمام عہدیدار مستعفی ہو جائیں،بصورت دیگر مارچ میں کالج کھلنے پر پروگریسو پینل اپنے لائحہ عمل کا اعلان کریگی، اور موجودہ بپلا نا اہل قیادت کیخلاف شدید احتجاج کریگی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر پروفیسر آغازاہد، پروفیسر عین الدین کبزئی، جعفر ترین، و دیگر بھی موجود تھے، پروفیسر نذیر لہڑی نے مزید کہا کہ بی پی ایل اے پروگریسو پینل ایسے وقت میں میڈیا کے سامنے آئے ہیں جب بلوچستان کے پروفیسرز برادری انتہائی مشکلات حالات سے دوچار اور ہماری تنظیم بد ترین بحران میں گھر چکی ہے، جس کی ذمہ دار بپلا کی موجودہ نا اہل کابینہ ہے بدقسمتی سے بی پی ایل اے 20سالوں سے ایسے ٹولے کے قبضے میں ہے جس نے ہمیشہ پروفیسرز کے اجتماعی مسائل و حقوق کو پس پشت ڈال کر چند افراد کے مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی، انہوں نے کہا ہے پرنسپل شپ ایکس کیڈر پوسٹوں اور کوئٹہ میں پوسٹنگ کے بدلے ہمارے اجتماعی معاشی مراعات و حقوق کا سودا کیا،انہیں عام پروفیسر سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی ان کے حقوق سے سروکار ہے، انہوں نے مزید کہا ہے پروگریسو پینل گزشتہ 10سالوں سے اس تسلط کیخلاف کوشاں ہے اور تنظیم کے اجتماعی طاقت و قوت کو مخصوص افراد کے ذاتی مفادات کیبجائے اجتماعی حقوق کے حصول و مسائل کے حل کیلئے بروئے کار لانے کیلئے بر سرپیکار ہے، 2018میں کالج اساتذہ نے اس رجیم کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور پروگریسو پینل کو الیکشن میں بھاری مینڈیٹ دیکر منتخب کیا 2سال کے قلیل عرصے میں بی پی ایل اے ایک نئی اور توانا تحریک کے طور پر ابھر کر سامنے آئی اور پروفیسرز کے حقوق کے حصول کیلئے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی گئیں، جن میں کنوینس الاؤنس، ریسرچ فنڈ، بی ایس پروجیکٹ کی منظوری، ریگولر اور ٹائم سکیل ترقیوں میں تیزی نئے پوسٹوں کی منظوری اور کالجز کے بجٹ میں غیر معمولی اضافہ شامل ہے،انہوں نے کہا کہ موجودہ بی پی ایل اے قیادت اپنا مقصد چھوڑ کر گالم گلوچ اور ذاتی مفادات کیلئے تنظیم کو استعمال کر رہے ہیں، جس کی ہم مذمت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ تنظیم اور پروفیسر کے درمیان لسانی تعصب اورمنافرت کی سنگین سازش کرنیوالوں کو تنظیم سے بے دخل نہیں کرتی، فرد واحد کیلئے تنظیم کو بحران میں مبتلا کرنے اور اس ناکام تحریک کے نتیجے میں ذہنی اذیت کا شکار ہونے والے پروفیسرز سے معزرت نہیں کرتی اس وقت تک بپلا تمام سرگرمیوں سے لاتعلق رہیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں