افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری اقلیت میں بدلنے کی سازش ہے‘ رحمت بلوچ
پنجگور (آئی این پی) نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر و سابق صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ نے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی منظم سازش ہے نیشنل پارٹی افغان مہاجرین کی موجودگی میں مردم شماری کو بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا ایک سوچے سمجھے منصوبہ سمجھتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ مردم شماری 2017 میں پنجگور میں لوگوں کے دلوں میں دانستہ خوف پیدا کرکے مختلف علاقوں میں لوگوں کی رسائی کو متنازع بنایا گیا بعض علاقوں کو شامل نہیں کیا گیا و لاکھوں لوگوں کو خوف کی وجہ سے جان بوجھ کر اندراج نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے پنجگور کو نقصان پہنچا انہوں نے کہا ہے ڈیجیٹل مردم و خانہ شماری کیلئے اداروں کو بلوچستان کے جغرافیائی معاملات معلوم کرکے حکمت عملی مرتب کرنا چائیے تھا بلوچستان کا اہم ڈویژنل مکران بلخصوص مکران کا سنگم پوائنٹ ضلع پنجگور جو مکران کو بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کو ہر حوالے سے ملاتی ہے جو مکران کے دیگر اضلاع کے جغرافیائی اعتبار سے سب سے طول و عرض ضلع ہے اس میں ایک سازش کے تحت موبائل انٹرنیٹ ڈیٹا کو بند کردیا گیا یہاں کے بسنے والے 95 فیصد انٹرنیٹ سے محروم ہیں ہم سمجھتے ہیں اسے محروم رکھنے کا مقصد پنجگور کے عوام کو انکے روزگار آن لائن کاروبار اسٹوڈنٹس کو تعلیم کی اسٹیڈی سے دور رکھنا انہیں ملکی و بین الاقوامی رابطوں سے کٹ کرنا و آنے والے مردم و خانہ شماری میں انہیں اقلیت میں بدلنے کیلئے ایک سازش ہے انہوں نے کہا ہے کہ ریاست خود مردم و خانہ شماری کو ڈیجیٹل طریقے سے چلانے کے فیصلے کے تناظر میں پنجگور کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندیش پر اپنے فیصلے پر دو رائے پر ہیں انہوں نے کہا ہے کہ ان تمام سازشوں کا لب لباب بلوچستان کو ایک بار پھر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جاری ہے۔


