کوئٹہ کراچی شاہراہ دو رویہ نہ ہونے کے باعث خونی شاہراہ بن گئی، حکومت قانونی سازی کرے، بی این پی
خضدار (انتخاب نیوز) بی این پی کے مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی میر عبدالرف مینگل نے کہا ہے کہ شاہراہ پر ہونے والے حادثات اور ان حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیا این ایچ اے کی ہٹ دھرمی،ٹرانسپورٹروں کی لاپروائی،ڈرائیوروں کی تیز رفتاری،مسافر بسوں میں لگے ٹریکروں کی عدم فعالیت اور سوراب سے لیکر بیلہ تک موٹر وے پولیس کی عدم تعیناتی کی وجہ سے ہو رہی ہے اور رہی سہی کسر شاہراہ کی دو روایہ نہ ہونے نے پوری کر دی ہے،حکومت مسافروں کی جان و مال کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے تمام مسافر کوچوں کے ڈرائیوروں کو موٹروے پولیس کے زریعے ٹرین کیا جائے ان خیالات کا اظہار انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے بیلہ کے مقام پر پیش آنے والے حادثے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا بی این پی کے مرکزی رہنما کا کہنا تھا کہ سردار اختر جان مینگل کی کاوشوں کی بدولت کچلاک تا خضدار قومی شاہراہ دو رویہ ہونے پر کام کا آغاز ضرور ہو اہے مگر یہ کام انتہائی سست روی کا شکار ہیں لیکن قومی شاہراہ پر ٹریفک حادثات کی بہت ساری وجوہات ہیں ان وجوہات کو ختم کئے بغیر قومی شاہراہ پر ہونے والے ٹریفک حادثات کو کنٹرول کرنا نا ممکن ہے سب سے بڑی ہٹ دھرمی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی ہے این ایچ اے کوئٹہ کراچی کی مرمت پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے گزشتہ بارشوں کی وجہ سے قومی شاہراہ مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے اس قومی شاہراہ پر سفر کرنا انتہائی حد تک نا ممکن ہو گیا ہے،ٹرانسپوروں کی لاپراوائی نے اس قومی شاہراہ پر سفر کو غیر محفوظ بنا دیا ہے ٹرانسپورٹرز مسافر بسوں میں حد سے زیادہ سامان لوڈ کرواتے ہیں،گاڑیوں کے نقائص دور نہیں کرتے اور گاڑیوں میں ڈرائیوروں کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں کرتے دوسری جانب ڈرائیور حضرات مالکان کی ہدایات کو پوری کرنے کی خاطر تیز رفتاری کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسافر کوچ حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں عموما یہ دیکھا گیا ہے کہ مسافر کوچوں کو سوراب تا بیلہ حادثات پیش آتے ہیں اس کی بڑی وجہ اس ایرایا میں موٹر وے پولیس کی عدم تعیناتی بھی ہیں حکومت این ایچ اے فوری طور پر سوراب تا بیلہ موٹروے پولیس کی تعیناتی کو یقینی بنائے تھا کہ تیز رفتاری کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکے بی این پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ مسافر کوچوں میں دیکھانے کے حد تک تو ٹریکرز لگائے گئے ہیں مگر یہ ٹریکرز یا تو فعال نہیں یا پھر زمہ دار ادارے اس پر توجہ نہیں دیتے ڈرائیور حضرات تیز رفتاری کرتے ہیں انہیں کوئی روکھنے والا نہیں اگر مسافروں میں سے کوئی تیز رفتاری پر احتجاج کرے تو مسافر بس کا عملہ ان سے جھگڑے شروع کر دیتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ مندرجہ بالا معاملات کو کنٹرول کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور خاص کر مسافر کوچوں کے ڈرائیوروں پر یہ شرط عائد کی جائے کہ وہ موٹروے پولیس ٹریننگ سینٹر سے ڈرائیونگ کی لائسنس حاصل کریں ٹرانسپورٹروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسے شخص کو ڈرائیور رکھیں جس کو موٹروے پولیس ڈرائیونگ لائسنس جاری کریں یہ خوش آئند بات ہے کہ بیلہ حادثے کی رپورٹ گاڑی مالکان کے خلاف درج کی گئی ہے


