شدید گرمی میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ کوئٹہ کے عوام سے دشمنی کے مترادف ہے، مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان
کوئٹہ (سٹی رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان کاشف حیدری، واحد ہادی، عزت اللہ کاظمی، الیاس ہزارہ، محمد علی، ذیشان علی، محمد رضا ہزارہ، ملا مہدی ہزارہ، منظور حسین اور دیگر رہنماﺅں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ شدید گرمی کے باوجود کوئٹہ، خصوصاً ہزارہ ٹاﺅن اور گردونواح میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی غیر اعلانیہ بندش نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں جبکہ گھروں میں خواتین، بچے، بزرگ اور بیمار افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں، اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں درجہ حرارت 38 سینٹی گریڈ سے تجاوز کرچکا ہے، لیکن اس کے باوجود بجلی کی فراہمی انتہائی ناقص ہے۔ دن کے ساتھ ساتھ رات کو بھی طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہری نہ سکون سے آرام کر پا رہے ہیں اور نہ ہی معمول کی زندگی گزارنے کے قابل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہزارہ ٹاﺅن کے رہائشی اور تاجر ہزاروں بلکہ لاکھوں روپے کے بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں بدترین غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جو قابل افسوس اور ناانصافی ہے۔ بجلی کی مسلسل بندش سے دکانوں، ورکشاپس، بیکریوں، ہوٹلوں اور دیگر کاروباری مراکز کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں اور تاجروں کو روزانہ لاکھوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ رہنماﺅں نے کہا کہ صرف لوڈشیڈنگ ہی نہیں بلکہ کم و بیش وولٹیج نے بھی عوام کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔ وولٹیج میں بار بار اتار چڑھاﺅ کے باعث گھروں اور دکانوں میں برقی آلات مسلسل خراب ہورہے ہیں، جبکہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہزارہ ٹاﺅن میں آتشزدگی کے دو واقعات بھی پیش آچکے ہیں جن میں شہریوں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، مگر متعلقہ حکام نے اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوئی موثر اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کی جائے، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور وولٹیج کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ عوام اور تاجروں کو مزید مشکلات اور مالی نقصان سے بچایا جا سکے۔


