افسران کے غیر اخلاقی رویے کیخلاف ایپکا کوئٹہ کی جانب سے سرکاری دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال

کوئٹہ (انتخاب نیوز) آل پاکستان کلرکس ایسوسی ضلع کوئٹہ جانب سے تین روزہ مکمل قلم چھوڑ احتجاج کے سلسلے میں آج پہلے دن 6 فروری کو پی ڈی ایم اے کے ڈپٹی ڈائریکٹرایڈمن کی جانب سے کلاس فور ملازمیں کو گالم گلوچ اورپرائیویٹ باڈی گارڈ کے زریعے زدوکوب کرنے کیخلاف کوئیٹہ کے سرکاری دفاتر میں ا یپکا کے ورکرز نے قلم چھوڑ احتجاج کرکے اظہار یکجہتی کیلے احتجاجی مظاہرے کیےقلم چھوڑ احتجاج کے باعث سرکاری دفاتر میں سرکاری امور ٹھپ ہوکر رہ گئی ایپکا ریسرچ کے صدر سردار فیض اللہ جمالدینی ایپکا شیخ زید ہسپتال کے صدر اصغر مینگل کالج آف ٹیکنالوجی کے صدر مہراللہ سمالانی ایپکا ایریگیشن کے صدر عبدالقادر رئیسانی محکمہ مائنز کے ٹکری خدائداد بنگلزئی کیو ڈی اے میں جمیل کاسی پی ایچ ای کے شیر محمد محمد شہی اربن پلاننگ کے صدر ظہور لانگو واسا ڈیپارٹمنٹ کے صدر سردار محمد کاکڑ انڈسٹریز کے صدر محمد نورسرپرہ سمال انڈسٹریز میں سینئر نائب صدر محمد عرفان محمد حسنی بی ڈی اے میں ثنااللہ ترین شہری دفاع میں جلیل مینگل محکمہ ترقی نسواں کے صدر احمدجان ماحولیات یونٹ میں لعل محمد لانگو لیبر اینڈ مین پاور کے صدر علی نواز شاہوانی ایکسائز یونٹ کے صدر شاہ زمان اکازئی محکمہ تعلیمات سکولز یونٹ میں سعید احمد ترین ورکرز ویلفیئر بورڑ کے صدر عزیز شاہوانی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے صدر نصیب اللہ کاکڑ ٹیکنکل ایجوکیشن ڈائریکٹر یٹ یونٹ کے صدر اسد کاکڑ محکمہ صحت کے صدر حضرت علی کاکڑ بی ایم سی کے صدر عبدالباسط شاہ کی قیادت میں ایپکا کے ورکرز نے اپنے محکموں میں قلم چھوڑ احتجاج کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن پی ڈی ایم اے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئیے ایپکا کوئیٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری ارباب عبدالخالق کاسی ایپکا کے صوبای ترجمان غلام سرور مینگل ضلعی نائب صدر سردار فیض اللہ جمالدینی اور ایڈیشنل جنرل سیکرٹری بیبرگ زھری کی سربراہی میں مختلف یونٹس کا دورہ کرکے قلم چوڑ احتجاج کا جائزہ لیا گیا ایپکا ضلع کوئیٹہ کے صدر رحمت اللہ زہری نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوے کہاکہ ایپکا کے کارکنان کا اتحاد مثالی ہے کسی بھی محکمہ میں اگر کسی ورکرکو تکلیف ہوگی یا کسی ممبر کا عزت نفس مجروح ہوگا پھر اس محکمہ میں سرکاری کام بھی متاثرہوگی ۔ہم سرکار کے نوکر ہیں کسی کا ذاتی نوکر نہیں ہمارے ورکرز کو گالم گلوچ اور زدوکوپ کرنے والوں کو بہر صورت اپنے غلطی کا ازالہ کرکے معافی مانگنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز میں اور ایپکا بلوچستان کے صوبائی ترجمان غلام سرور مینگل نے پی ڈی ایم اے ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے قائم کی گئی ریسکیو سینٹر کوجک ٹاپ چمن اور کان میتر زئی کا دورہ کیا کوجک ٹاپ پہ قائم ریسکیو سینٹر کا نام و نشان تک نہیں تھا ایک ٹوٹی پوٹی کنٹینر انتہائی خستہ حالت میں پڑا ہوا تھا وہاں پہ نا تو کوئی ریسکیو انسپکٹر اور نا ہی کوئی ریسکیو ٹیم اور نا ہی کوئی آفیسر موجود تھا ریسکیو سینٹر کے نام پہ کروڑوں کا فنڈ خرد برد کرنے کا ذریعہ ریسکیو سینٹر کوجک ٹاپ پر نمک کے چند تھیلے رکھے ھوئے تھے ریسکیو سینٹر پہ ماہانہ لاکھوں روپے کا فنڈ کہاں خرچ کیا جارہا ھے اس کا کوئی بھی حساب کتاب نہیں ہے پی ڈی ایم اے انتظامیہ کی جانب سے درجہ چہارم کے غریب ملازمین کو انکے جائز مسائل اور تنخواہیں مانگنے کی سزا دیتے ہوئے کوجک ٹاپ پر ٹرانسفر کیا گیا ہے جبکہ کوجک ٹاپ پر ملازمین کے رہائش کا کوئی بندوبست نہیں نہ واشروم کا بندوست کیا گیا ہے اور ناہی دیگر رہائشی انتظامات کیے گئے ہیں وھاں پر موجود پی ڈی ایم اے کے ڈیلی ویجز کے تین کلاس فور ملازمین کھلے آسمان تلے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اور انکو چار مہینے سے تنخواہیں نہیں دی گئیں ہیں۔جبکہ غریب ملازمین 24 گھنٹے اپنی مدد آپ کے تحت شدید سردی اور برف باری میں اپنے ڈوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں جبکہ لاکھوں روپے تنخواہ لینے والے آفیسران اپنے گھر وں کے گرم کمروں میں اپنے ٹی اے ڈی اے کے مراعات لوٹ کھسوٹ رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پی پی ڈی ایم اے کے رول میں پندرہ دن کے ایمرجنسی اٹینڈ کرنے والےملازمین کو ایک تنخواہ بطور بونس دیا جاتا ہے خدشہ ہے کہ حالیہ قدرتی آفات میں ایمرجنسی ڈیوٹیاں سر انجام دے والے ملازمین کی بونس تنخواہیں بھی پی ڈی ایم اے کے آفیسرز کے جیبوں میں چلے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ڈپٹی ڈائرییکٹر ایڈمن کیخلاف کاروائی نہیں کی گئی تو احتجاج میں مزید سختی لاتے ہوئے پی ڈی ایم اے میں اربوں روپے کے ھونے والے کرپشن کو طشت از بام کیا جائے گا اور کو ئیٹہ کے سرکاری دفاتر میں مکمل قلم چھوڑ احتجاج مزید دو روز جاری رہےگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں