گوتم اڈانی اور مودی سرکار گٹھ جوڑ،اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی کا اظہار تشویش
نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک ) اڈانی گروپ اور مودی سرکار میں گٹھ جوڑ پر بھارتی لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بی جے پی کے کروڑ پتی بننے والے بزنس مین گوتم اڈانی سے متعلق سوالات اٹھادیے ،کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ آج بھارتی قوم پوچھ رہی ہے کہ آخر یہ اڈانی ہے کون؟ 2014 میں گوتم اڈانی امیر لوگوں کی فہرست میں 609 نمبر پر تھا اور آج دوسرے نمبر پر ہے۔ گوتم اڈانی کا بھارتی وزیراعظم سے آخر کیا رشتہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ’مودی سرکار میں ایک نام ہمیں ہر جگہ س±ننے کو ملتا ہے اور وہ ہے اڈانی، سیب سے لیکر کیلوں کے کاروبار تک ہر جگہ اڈانی ہی چلتا ہے جب کہ اڈانی کسی بھی بزنس میں فیل نہیں ہوتا، آخر ایسا کیوں؟انہوں نے کہا کہ کچھ دن بعد بنگلا دیشی پاور ڈیویلپمنٹ بورڈ 25 سال کا کنٹریکٹ اڈانی کے ساتھ سائن کر دیتا ہے جب کہ ہمارا وزیراعظم سری لنکا جا کے کہتا ہے کہ بجلی کا پروجیکٹ اڈانی کو دے دیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ فارن پالیسی نہیں بلکہ یہاڈانی کے بزنسز بنانے کی فارن پالیسی ہے، فرق یہ ہے کہ پہلے اڈانی کے جہاز میں م±ودی جاتے تھے لیکن اب م±ودی کے جہاز میں اڈانی جاتا ہے۔انہوں نے مزید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ م±ودی سے سوال ہے کہ غیر ملکی دوروں پر کتنی مرتبہاڈانی کے ساتھ گئے؟ ضروری سوال تو یہ بھی ہے کہ اڈانی نے پچھلے 20 سالوں میں بی جے پی کو کتنے پیسے دیے؟اڈانی نیٹ ورک 2014سے2022تک 8بلین ڈالر سے 140بلین ڈالر کیسے ہوگیا؟ م±ودی جی سے سوال ہے کہ غیر ملکی دوروں پر کتنی مرتبہ اڈانی کے ساتھ گئے اور ان دوروں کے دوران اڈانی کو کتنے کنٹریکٹس ملے؟واضح رہے کہ کچھ دن قبل مودی سرکار اور اڈانی گروپ میں کرپشن گٹھ جوڑ کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے تھے جس میں دفاعی ساز و سامان بھی شامل ہے۔


