نوکنڈی فٹبال اسٹیڈیم کے فنڈز میں خورد برد، افسران کی لوٹ مار پر عوامی حلقوں کی تشویش
نوکنڈی : نوکنڈی خان محمد عمر خان فٹبال اسٹیڈیم کے مین گیٹ کو کچھ نامعلوم افراد نے توڑ دیا ہے تاکہ باآسانی سے چوری کیا جاسکے نوکنڈی خان محمد عمر خان فٹبال اسٹیڈیم کے ایک کروڑ کے فنڈز بھی کرپشن ہوِئے تھے صرف چھ سو فٹ کا دیوار اور یہ کمزور گیٹ جوکہ ایک دھکا دینے سے بھی اس کے ٹوٹنے کا خدشہ تھا جو کہ اب کچھ افراد نے چوری کرنے کی نیت سے کردیا ہے نوکنڈی فٹبال اسٹیڈیم کے فنڈز مذکورہ ٹھیکیدار اور محکمہ بی اینڈ آر کے کچھ افیسران کی ملی بھگت سے لوٹ مار اور کرپشن کیا گیا کئی بار کے احتجاج کے باوجود محکمہ بی اینڈ آر کے افیسران اور مذکورہ ٹھیکیدار سے کوئی باز پرس نہیں کی جارہی ہے فٹبال اسٹیڈیم کے کمروں دروازوں اور کھڑکیوں کو آئے روز توڑ پوڑ کی جاتی ہے لیکن یہاں کوئی چوکیدار تعینات نہیں کیا گیا ہے بلوچستان کے تمام اسٹیڈیمز میں ملازم تعینات کیے گئے ہیں یہاں ایک چوکیدار بھی نہیں ہے میر اعجاز خان سنجرانی کے اعلانات کردہ فنڈز سے بھی ابھی تک اسٹیڈیم میں کوئی کام شروع نہیں ہوا ہے اور سابقہ کام کو بھی محکمہ نے ٹھیکیدار سے مکمل نہیں کیا ہے ان کے مکمل فنڈز رہتے ہیں اور محکمہ بی اینڈ آر ٹھیکیداروں کو کلین چٹ دے کر اپنی جانب سے فارغ نہ کریں خود آکر اسٹیڈیم میں کام چیک کرے اور فٹبالرز سے رابطہ کری فٹبالرز نے ڈپٹی کمشنر چاغی حسین جان بلوچ سےاپیل کیا کہ نوکنڈی فٹبال اسٹیڈیم کے کرپشن کا محکمہ سے جلد نوٹس لیں اور اسٹیڈیم کے مین گیٹ توڑنے کا نوٹس لیکر لیویز سپاہی تعینات کریں تاکہ ہر روز کھڑکی دروازوں کے توڑنے اور منشیات کے عادی افراد سے سپورٹس مین نوجوانوں کو خلاصی مل سکے۔


