اشرافیہ نے جنگی معیشت کو دوام دینے اور ڈالرز کے حصول کیلئے پشتون وطن پر جنگ مسلط کی، عوامی نیشنل پارٹی

لورالائی: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ باچاخان کے مسکن پر قتل عام، چائنا امریکہ سے ڈالرز کے حصول، پشتونوں کی سرزمین قبضہ کرنے اور اللہ تعالی کی جانب سے عطا کردہ نعمتیں دریا،معدنیات،جنگلات زیر دست رکھنے کیلئے کیا جارہا ہے20جنوری سے ہفتہ باچاخان کے اختتام پر پشاور پولیس لائن کی مسجد میں حملہ سے انتہاپسندوں کی ناپاک عزائم وطن اور قوم دشمنی کی عکاسی ہوتی ہے پشتون اولس اب اس بھکاوے میں نہیں آئیں گے "پشتون اولسی پاون” امن کے قیام وسائل پر اختیار کیلئے اس آواز کو مزید موثر اور توانا بنایا جائے گا باچاخان ولی خان اجمل خٹک کے افکار میں پشتون افغان وطن کے جملہ قومی اجتماعی مسائل کا نہ صرف حل موجود ہے بلکہ مہذب اقوام کے صفوں میں کھڑا ہونے انہیں سیال حیثیت دلانے میں بھی معاون ومددگار ثابت ہوگا کارکن اور ذمہ داران اپنی تنظیمی ربط کو برقرار رکھتے ہوئے فکر باچاخان کو عام کرنے کیلئے تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ان خیالات کااظہار عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدروصوبائی پارلیمانی لیڈر اصغر خان اچکزئی صوبائی جنرل سیکرٹری مابت کاکا ضلعی صدر منظور کاکڑ ایڈوکیٹ اراکین مرکزی مجلس عاملہ گنوخان غلزئی ڈاکٹر عیسی خان جوگیزئی ضلعی جنرل سیکرٹری راز محمد ترہ کئی پشتون ایس ایف کے سنئیر نائب صدر خالد ترہ کئی ودیگر نے عوامی نیشنل پارٹی ضلع لورالائی کے زیر اہتمام بھاگی بازار میں رئیس الاحرار فخر افغان خان عبدالغفار خان باچاخان کی 35 ویں، رہبر ملی قائد جمہوریت خان عبدالولی خان کی 17ویں قوم پرست سیاستدان انقلابی شاعر ادیب لیکوال اجمل خان خٹک کی 13ویں برسی کے مناسبت سے منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران کیا اس سے پہلے سرکاری باغ سے امن ریلی نکالی گئی جو پشتونستان چوک باچاخان چوک سے ہوتی ہوئی پریس کلب کے سامنے عظیم الشان جلسے میں تبدیل ہوئی جلسے سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ان عظیم ہستیوں کی برسی ایسے حالات میں منانے جارہے ہیں جب خطہ ملک اور باالخصوص پشتون خوا وطن تاریخ کے نازک ترین صورت حال سے گزررہی ہے باچاخان ولی خان اجمل خٹک کی مسکن جو امن محبت تہذیب وتمدن کا گہوارہ رہا ہے اسے آج بقا کا مسئلہ لاحق ہوچکا غیروں کی مفادات کے حصول میں پشتون خوا وطن اور پشتون قوم آگ خاک وخون میں جل رہی ہے حکمران اشرافیہ نے جنگی معیشت کو دوام دینے اور دنیا جہان سے ڈالرز کے حصول کے لیے پشتونوں کی گل سرزمین پر جنگ مسلط کر رکھی ہے مقررین نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ معاندانہ طرز عمل ناقابل برداشت ہوتا جارہا رکن قومی اسمبلی علی وزیر کو دوسال سے قید وبند میں رکھا گیا ہے، بارہا اعلیٰ عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کرنے کے باوجود انہیں رہا نہیں کیا جارہا، جبکہ دوسری جانب لوگوں کو گھنٹوں دنوں کے اندر باہر نکالا جاتا ہے جس سے پشتونوں کی ریاست اور ریاستی اداروں سے متعلق خدشات میں اضافہ فطری عمل ہے جس کے نتائج کے ذمہ دار بھی یہی قوتیں ہوں گی اس پر حکمران اشرافیہ مقتدر اور پروردہ قوتوں کو سوچنا کرناہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں