میں سوتے سوتے پارٹی صدر، وزیراعلیٰ بنا جو اللہ چاہتا تھا، ریکوڈک اور دیگر فیصلے سوتے سوتے نہیں کیے، قدوس بزنجو

کوئٹہ(این این آئی)وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننے کے لئے نہ پیسے خرچ کئے ہیں، نہ کسی کو پیسے دئےے ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے لیڈر کو کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ بنایاجائے ، حالات اور مشکلات سے کبھی نہیں گھبراتا میں استعفیٰ نہیں دونگا ، ملکی حالات دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم الیکشن میں جانے کی پوزیشن میں ہیں ، ہائی کورٹ کے اسٹے آرڈز کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے ، بلوچستان میں کلاس فور کے علاوہ تمام آسامیوں پر بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائےگی، وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی نگرانی میں کنٹریکٹ پر ہونہار استاتذہ بھرتی کئے جائیں گے،بلوچستان کے لوکل لوگوں میں امیدوار نہ ملے تو پاکستا ن کے کسی بھی علاقے سے قابل استاتذہ کو یہاں لایا جائےگا ،آئندہ ماہ صحت کارڈ کا منصوبہ شروع کرنے جارہے ہیں، صوبے میں لینڈر ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کر رہے ہیں، بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ کوئی پارلیمانی جماعت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی تھی جو ہم نے کیا ہے۔یہ بات انہوں نے ہفتہ کو وزیراعلیٰ ہاﺅس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی ۔اس موقع پر ترجمان حکومت بلوچستان فرح عظیم شاہ، وزیراعلیٰ کے کورآرڈینیٹر بابر یوسفزئی سمیت دیگر بھی وزیراعلیٰ کے ہمراہ تھے ۔ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ عوام کا حق لینا میری ذمہ داری ہے ایک سال بعد میڈیا کے سامنے اس لئے آیا ہوں تا کہ کھل کر اپنی حکومت کی کارکردگی بیان کر سکوں ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو میرٹ پر روزگار دینے کے لئے کلاس فور یعنی 1سے 4گریڈ کے علاوہ تمام آسامیوں پر بھرتی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائےگی ، پبلک سروس کمیشن میں ایماندار اور اچھی شہرت کے حامل افراد کو تعینات کیا جائے گا جبکہ اسکا دائرہ کار ڈویژنل سطح تک پھیلایا جائےگا جن آسامیوں کے اشتہار جاری ہوچکے ہیں اور جن پر انٹرویو ہوئے ہیں فیصلے کا اطلاق ان آسامیوں پر نہیں ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ جہاں ہمارے بچوں کے مستقبل کا مسئلہ ہو وہاں میں کسی کی بھی نہیں سنونگا اور اپنے فیصلے پر قائم رہونگا ۔پبلک سروس کمیشن میں کوئی سفارش یا بدعنوانی نہیں چلے گی اگر کسی نے ایسا کیا تو گولی مارنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے میں جب تک استاتذہ کی کمی ہے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کی نگرانی میں کنٹریکٹ پر ہونہار استاتذہ بھرتی کئے جائیں گے، جامعات میں بھی پڑھے لکھے نوجوان بھرتی کئے جائیں گے اگر بلوچستان کے لوکل لوگوں میں موضوں امیدوار نہ ملے تو پاکستا ن کے کسی بھی علاقے سے قابل استاتذہ کو یہاں لایا جائےگا تا کہ بلوچستان کو بھی دیگر صوبوں کے برابر لایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے کے لئے میں گزشتہ 3راتوں سے نہیں سویا اور حکمت عملی مرتب کی ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں ایک ماہ میں صحت کارڈ کا اجراءکرنے جارہے ہیں جس کے تحت ہر خاندان کو 10لاکھ روپے تک کی رقم کے علاج کی سہولت ملک بھر کے ہسپتالوں میں میسر ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ہماری گزشتہ حکومت نے مہلک بیماریوں کے لئے علاج کے لئے انڈومنٹ فنڈ قائم کیا تاکہ لوگ مہنگا علاج بھی کرواسکیں یہ فنڈ جاری رہے گا ۔غیر قانونی ٹرالنگ اور غیر ضروری چیک پوسٹوں کا خاتمہ کیا گیا ہے تمام سیکورٹی اداروں کو ہدایت کی ہے کہ صرف تخریب کاری، اسلحہ، منشیات کی روک تھام پر توجہ دیں کسی کی عزت نفس مجروح نہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ شکایات سیل قائم کردیا ہے جو میری کھلی کچہری کا متباد ل ہے عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ ویزراعلیٰ سونے کے لئے نہیں آیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ خوراک میں فلومل کے قیام کے میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں ۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبہ مکمل نہ ہونا بہت نا انصافی ہے تاخیر کی وجہ سے اس منصوبے کی لاگت 2ارب سے بڑھ کر 9ارب تک پہنچ گئی ہے سیف سٹی منصوبہ کئی سال پہلے مکمل ہو جا نا چاہےے تھا ۔انہوں نے کہا کہ جناح روڈ، لیاقت بازار سمیت ملحقہ علاقوں کو عالمی معیار کے مطابق واکنگ اسٹریٹ بنا نے کا منصوبہ زیر غور ہے ،گوادر اور پشین میں لینڈر یکارڈ کمپوٹرائزڈ کردیا ہے ایک ماہ میں کوئٹہ کا لینڈ ریکاڈ بھی کمپیوٹرائزڈ کریں گے جس کے بعد صوبے بھر میں اس عمل کو وسعت دی جائےگی ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ اور خواندگی نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے منصوبوں کے لئے ای ٹینڈنگ بند کی گئی ہے بڑے منصوبوں کے ای ٹینڈ ہی ہورہے ہیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر مجھے اٹھنے دیا گیااور باہر نکلا اور کوئٹہ شہر میں کچرے کے ڈھیر ہوئے تو میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹر کو فوری طور پر معطل کرونگا۔ پی ایس ایل کے نمائشی میچ کے اخراجات کے سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارے لئے پیسے کی نہیں عوام اور بلوچستان کے تشخص کی اہمیت ہے جس کے لئے جتنے بھی پیسے خرچ کرنے پڑیں تو کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کا کام فیصلے کرنا ہے نہ کہ 8،8گھنٹے کے اجلاس اور بریفننگ لینا ،تیکنیکی کاموں کے لئے سرکاری ملازمین، ماہرین اور ٹیکنیکل لوگ موجود ہیں جنکا کام سڑکیں ،عمارتیں ،منصوبے بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جام کمال خان میرے لئے محترم ہیں انہوں نے گستاخی کے باوجود مجھے عزت دی اور چائے پلائی وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مضبوط ستون ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحادی اور بلوچستان اسمبلی میں موجود جماعتوں کے پارلیمانی لیڈران کو بھی اپنے فیصلوں پر اعتماد میں لیکر انکے ساتھ بھی پریس کانفرنس کرونگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بننا میرے لئے امتحان تھا جب عوام کی جان ومال کا تحفظ ، حقوق کا دفاع، مسائل کے حل میں کامیاب ہوا تو تمام جماعتوں کا شکریہ ادارکرونگا ۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے علاوہ کوئی پارلیمانی جماعت یہ فیصلہ نہیں کرسکتی تھی جو ہم نے کیا ہے ۔میں بلوچستان عوامی پارٹی کا سربراہ رہوں یا نہ رہوں اپنے فیصلے پر قائم اور میرٹ کی بالا دستی کرونگا پارٹی سے جانے والوں کے لئے کہا کہ جو جاتے ہے جائے اور جو آنا چاہے بسم اللہ ہم کسی جانے والے کے خلاف کاروائی نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مزاج اپوزیشن والا نہیں ہے ہمیں حکومت میں ہی رہنا چاہےے میں نے آج جو فیصلے کئے وہ مشکل ضرور تھے لیکن مجھے بلوچستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں پر اعتماد ہے ہم انکے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں مجھے صوبے کے نوجوانوں کا مستقبل عزیز ہے ۔ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ بننے کے لئے نہ پیسے خرچ کئے ہیں، نہ کسی کو پیسے دئےے ہیں اور نہ ہی کسی پارٹی کے لیڈر کو کہا کہ مجھے وزیراعلیٰ بنایاجائے ،بطور وزیراعلیٰ ہمیشہ صوبے کے مفاد میں موقف اپنایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں سوتے سوتے پارٹی صدر، وزیراعلیٰ بنا جو اللہ بنانا چاہتے تو ایسے ہی ہوتا ہے ۔ریکوڈک معاہدہ، بجٹ سازی، سمیت دیگر فیصلے سوتے سوتے نہیں کئے ۔انہوں نے کہا کہ ریکوڈک پر کام کر نے کے لئے 4ارب ڈالر کی رقم چاہےے اس کے علاوہ ملک پر جرمانہ بھی تھا کیا صوبے یا ملک کے پاس یہ رقم ہے ؟ ۔ اگر ریکوڈک میں ایک پیسہ بھی نہ ملتا ہم تب بھی صوبے میں سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے اور گیٹ وے دینے کے لئے راستہ بناتے اگر ریکوڈک میں نواب اسلم رئےسانی کو کریڈیٹ نہ دیں تو یہ غلط ہوگا انکے فیصلے سے ہمیں شعور ملا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارا انتخابات کا نظام ایسا ہے کہ اس میں جھوٹ اور ووٹر کا مفاد سب سے اہم ہے انتخابی مہم کے دوران 15لاکھ سے زائد کا صرف پیٹرول خرچ ہوتا ہے کسی بھی انتخاب کا خرچ 15سے 20کروڑ روپے تک ہوتا ہے ،ہر رکن قومی و صوبائی اسمبلی کا ماہانہ خرچ 30سے 50لاکھ روپے تک ہوتا ہے انہوں نے اپنے لوگوں کو ملنا اور انکی ضروریات کو پورا کرنا ہوتا ہے ،میری پڑھے لکھے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ ووٹ کا حق استعمال کیا کریں اور اپنے نمائندے چنیں تاکہ سیاسی نظام میں اجاارہ داری کا عنصر ختم ہو اور عوام ووٹ کا آزادانہ استعمال کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے نظام میں میرٹ پر فیصلے کرنا ناممکن ہے ہمیں ووٹر کو مطمئن کرنا پڑتا ہے میرے گزشتہ دور میں عدلیہ نے بہت تنگ کیا ہر طبقے کو لگتا ہے کہ وہ ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن بطور حکومت ہمارے لئے فیصلے کرنے کے لئے معروضی حالات کو دیکھنا لازمی ہوتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ میں اتنا کمزور نہیں کہ استعفیٰ دے دیں حالات اور مشکلات کا مقابلہ کرنا میرا شیوہ ہے اور ان سے کبھی نہیں گھبراتا میں استعفیٰ نہیں دونگا اور آخری تک جاﺅنگا ہاں اگر کسی نے مجھے نکال دیا تو وہ الگ بات ہے ایک وزیراعلیٰ کو زمین کے مجازی خدا اراکین صوبائی اسمبلی ہی نکال سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملکی حالات خراب ہیں انہیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ ہم الیکشن میں جانے کی پوزیشن میں ہیں ۔میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل کوہائی کورٹ کی جانب سے تمام معاملات میں دئےے گئے اسٹے آرڈز کے دستاویزات کے ساتھ سپریم کورٹ بھیجا ہے ہمارے ہر کام پر اسٹے دے دیا جاتا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا کہ حکومت کتنی محنت سے وہ کام کر رہی ہے مجھے جیل، توہین عدالت کی نہیں عوام کی پرواہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان مضبوط ہوگا تو پاکستان مضبوط ہوگا بلدیاتی انتخابات پرامن اور احسن انداز میں کروانے کا کریڈیٹ صوبائی حکومت کو جاتا ہے ہم نے بلدیاتی انتخابات میں پولیس اور لیویز کے ذریعے سیکورٹی دی تاکہ اپنے اداروں کو پر اعتماد اور مستحکم بنائیں بلدیاتی انتخابات میں حکومت غیر جانبدار رہی جس کی واضح مثال یہ ہے کہ میں نے اپنا معمول کا دورہ آوران بھی اس وجہ سے معطل کیا بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو بھی تمام جماعتوں نے تسلیم کیا کسی نے بھی دھاندلی اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام نہیں لگایا جو حکومت کے لئے قابل فخر بات ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلا ب ہم پر آزمائش بن کر آیا جس میں عوام کے لئے کام کر نے کی کوشش کی اگرچہ ہم 100فیصد لوگوں کو مطمئن نہیں کر سکتے لیکن جتنا ممکن ہوا عوا م کی مدد کی اور امداد کے دوران کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہونے دی ، اب ہم سیلاب زدگان کی دوبارہ بحالی کے عمل میں بھی عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ جنرل سرفراز شہید اور انکے ساتھیوں کی قربانی کو بھی عوام یاد رکھیں گے کہ جنہوں نے سیلاب زدہ عوام کو ریلیف دینے کے دوران اپنی جانوں کا نذانہ پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ موجود ہ حکومت نے 6ماہ کی قلیل مدت میں ایسا بجٹ پیش کی جس پر کسی کو اعتراض نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے احتجاج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بجٹ میں پلاننگ کمیشن کے ان نکات پر بھی عملدآمد کیا ہے جس پر پلاننگ کمیشن خود بھی عمل نہیں کرتا ہوگا ساتھ ہی عدالتوں کے فیصلوں کی روشنی میں بجٹ کی تشکیل دی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے اتحادیوں کی مدد سے چیزوں کو اسٹریم لائن کر رہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں