بلوچ نوجوانوں کو لاپتہ کرنا، خواتین اور بچوں کا اغوا قومی اور قبائلی روایت کے منافی ہے، بی این پی

سبی (این این آئی) سبی میں بی این پی کے زیر اہتمام تاریخی جلسے میںچودہ نکاتی قرار داد پیش کئی گئی۔قرار داد بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری ملک سلطان دہپال نے پڑھ کر سنائیں، جسے جلسہ گاہ میں موجود ہزاروں افراد نے ہاتھ بلند کرکے منظور کیا ۔قرار داد کے مطابق یہ تاریخی جلسہ عام بلوچ قومی خودارادیت کی بھر پور حمایت کا اظہار کرتاہے ،جلسہ بلوچستان میں گھر چار دیواری کی پامالی ،خواتین بچوں کی اغواءجیسے بلوچستان کے قومی روایات کی منافی عمل کا شدید مذمت کرتا ہے ،یہ جلسہ عام بلوچ لاپتہ افراد کی باز یابی کا مطالبہ کرتا ہے،جلسہ عام ایم پی اے نوشکی بابو رحیم مینگل کے گھر چھاپہ ،چادر چار دیواری کی تقدس کی پامالی کی شدید مذمت کرتا ہے ،بلوچستان کے ساحل وسائل پر بلوچ قوم اور بلوچستان کی حق معیشت کو تسلیم کیا جائے ،یہ جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ مردم شماری و خانہ شماری غیر ملکی تارکین وطن و مہاجرین کو شامل نہ کیا جائے ، سبی انتظامیہ کی جلسہ میں رکاوٹ ڈالنے اور عدم تعاون کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اعلیٰ ضلعی اختیار کی فوری تبادلہ کا مطالبہ کرتے ہیں ،سبی اور نصیر آباد اضلاع میں ٹرانسفارمر مرمت ورکشاپ قائم کی جائیں،اس جلسہ عام کے توسط سے مطالبہ کرتے ہیں کہ گریڈ اسٹیشن سبی سے لوڈشیڈنگ اوورلوڈنگ سے بچنے کے لئے گریڈ اسٹیشن کو اپ گریڈ کیا جائے ،زرعی اور شہری فیڈر وں پر دباو لوڈشیڈنگ وولیٹج کی کمی کے لئے اضافی فیڈر بنائے جائیں،سبی کے لئے شہر میں ایمرجنسی موبائل ٹرالی فراہم کی جائے ،جلسہ عام مطالبہ کرتا ہے کہ سبی سمیت چاکر قلعہ ،مل یوسی ،دیگر علاقوں میں آبنوشی کے لئے سہولت فراہم کیا جائے سبی سٹی کے بند پائپ لائنوں کو بحال کیا جائیں،تعلیمی اداروں میں سائنسی اور تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں،پیشہ ورانہ اداروں میں طلباءو طالبات کے لئے مخصوص نشتوں میں اضافہ کیا جائے جسے جلسہ گاہ میں موجود ہزاروں افراد نے ہاتھ بلند کرکے حمایت کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں