مردم شماری ہماری بقا کا مسئلہ ہے، اسی کے ذریعے وسائل کی تقسیم ہوتی ہے، خضدار میں سیاسی جماعتوں کی نشست

خضدار : پہلا ڈیجیٹیل مردم و خانہ شماری،خضدار کے تمام سیاسی جماعتیں سماجی شخصیات ایم پی اے خضدار میر یونس عزیز زہری کی میزبانی میں سر جوڑ کر بیٹھ گئے،ڈیجیٹل مردم و خانہ شماری کو کامیاب بنانے کا عزم،ڈیجیٹل مردم شماری کو کامیاب بنانے کے لئے یونین کونسل سطح پر کام کرنے پر اتفاق،تمام سیاسی پارٹیاں مردم شماری کے حوالے سے یکجا جائیں مردم شماری کامیاب ہو گی ضلع کی آبادی بڑھے گی وسائل کی تقسیم زیادہ ہوگی صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ ہو گا اگر ہم نے مشترکہ کوششیں نہیں کئے اور سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا تو مردم شماری میں آبادی کم ہو گی نقصان نا قابل تلافی ہو گا مقررین کا مردم شماری آگاہی سیمینار سے خطاب تفصیلات کے مطابق رکن صوبائی اسمبلی میر یونس عزیز زہری کی میزبانی میں میر سہیل الرحمن ہال خضدار میں ڈیجیٹل مردم شماری و خانہ شمارے کے حوالے سے سیمینار کا انعقا د کیا گیا سیمینار کی صدر میر یونس عزیز زہری نے کی جبکہ اعزازی مہمانوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنمائ میر عبدالرحمن زہری،ایس ایس پی خضدار کیپٹن (ر) فہد خان کھوسہ،سماجی کارکن محترمہ ہماءرئیسانی شامل تھے حاجی محمد اقبال لانگو صابر حسین قلندرانی محمد عالم جتک جمعہ خان شکرانی ڈاکٹر سعید احمد بلوچ شامل تھے قبل ازیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر نادرا خضدار عارف بلوچ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر شماریات محبوب بلیدی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ تعلیم قلات ڈویڑن ظاہر کریم نے سیمینار کے شرکاءکو مردم شماری،خانہ شماری اور خود شماری کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ خود شماری 20 فروری سے شروع ہو کر 3 مارچ تک جاری رہے گی جس میں ہر فرد کی یہ کوشش ہونی چائیے کہ وہ بجائے شمارکنندگان کے انتظار کرنے کے خود شماری کے زریعے گھر کا اور گھر کے افراد کا اندراج کروائیں جبکہ یکم مارچ سے باقاعدہ مردم شماری و خانہ شماری شروع ہو گی جس میں محکمہ شماریات کی جانب سے متعین کردہ شمارکنندگان گھر گھر جار کر افراد اور گھروں کو شمار کرینگے اور گھروں کی سہولیات کے متعلق آگاہی حاصل کر کے ان کا اندراج کرینگے لہذا ہم تمام سیاسی جماعتوں،سماجی کارکنان،علماءکرام سمیت تمام طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متحد و منظم ہو کر نہ صرف شمارکنندگان کی مدد کریں بلکہ ابھی سے لوگوں میں شعور پیدا کریں کہ وہ پہلے خود شماری کے زریعے ہی اپنے گھر اور گھرانے کا اندراج کریں تاکہ انہیں پریشانی کا سامنا کرنا نہ پڑے سیمینار سے ایم پی اے میر یونس عزیز ہری،ایس ایس پی خضدار کیپٹن(ر) فہد خان کھوسہ،پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماءمیر عبدالرحمن زہری،سماجی کارکن محترمہ ہماءرئیسانی،نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری ایک سنجیدہ اور اہم مسئلہ ہے اس پر ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا مقررین نے کہا کہ مردم شماری ہماری بقا کا مسئلہ ہے اگر ہم نے اس میں کوتاہی کی تو اس کے خطرناک نتائج ہونگے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے زریعے ہی وسائل کی تقسیم ہوتی ہے،پسماندگی کا تعین ہوتا ہے،سہولیات کے متعلق آگاہی حاصل ہو تی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نئی انتخابی یونٹوں کابھی تعین کیا جاتا ہے گزشتہ مردم شماری میں تربت کے سیاسی جماعتوں سمیت تمام طبقات نے مشترکہ کوشش کی لوگوں کے اندراج کو یقینی بنایا اس طرح انہیں صوبائی اسمبلی کی ایک اضافی نشست مل گئی حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ضلع خضدار کی آبادی کوئٹہ کے بعد سب سے زیادہ ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ لوگوں کی اندراج نہیں ہوتی لوگ اندراج سے رہ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری آبادی کم شو ہو جاتی ہے اس دفعہ اہل خضدار کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہو گا ضلع کے تمام افراد کی اندراج کو یقینی بنانا ہو گا اس کے لئے شعور و آگاہی پھیلانے کے لئے آج سے ہی ہمیں میدان میں اترنا ہو گا یونین سطح پر کمیٹیاں تشکیل دینی ہو گی مقررین نے تمام سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں و کارکنان سے اپیل کی کہ یہ ایک قومی مسئلہ ہے اس پر ہم سب کو ایک پارٹی بن کر سوچنا ہو گا لوگوں میں یہ شعو ر پیدا کرنا ہو گا کہ وہ خود شماری اور مردم شماری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں مقررین نے ایم پی اے خضدار کی مردم و خانہ شماری کے حوالے سے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پیش قدمی کر کے پہلا اینٹ رکھ دیا ہے اب تمام سیاسی جماعتوں،صحافیوں،سماجی کارکنان اور عوام الناس کی زمہ داری ہے کہ وہ اس خوبصورت اقدام میں اپنے حصہ کا کام احسن طریقے سے سرانجام دیں تا کہ ہم مردم شماری کے ثمرات سے ہم سب مستفید ہوں سیمینار میں بی این پی کے ضلعی صدر میر شفیق الرحمن ساسولی،جمعیت علماءاسلام کے ضلعی جنرل سیکرٹری مولانا عنایت اللہ رودینی،مولانا محمد اسحاق شاہوانی،تحریک انصاف کے محبو ب کرد،نیشنل پارٹی کے ناصر کمال انجمن تاجران کے ضلعی صدر حافظ حمید اللہ مینگل جھالاوان عوامی پینل کے سعید احمد قلندرانی سمیت مختلف سیاسی و سماجی شخصیات اور کواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں