اشرافیہ کے مراعات میں اضافہ ،عوام پر صرف سانس لینے پر ٹیکس باقی رہ گیا

لاہور:پروفیشنل ریسرچ فورم کے چیئرمین سید حسن علی قادری نے کہا ہے کہ جب تک سیاسی اور بیورو کریسی کی اشرافیہ کی حکومتی خزانے سے مراعات ختم نہیں ہوں گی انہیں عوام کی مشکلات کا اندازہ نہیں ہو سکتا ،عوام پر منی بجٹ کے بعد پیٹرولیم اور گیس کی قیمتوں کا جو بم گرایاگیا ہے اس کے بعد صرف سانس پر ٹیکس لینا باقی رہ گیا ہے اور لگتا ہے عنقریب اس کا بھی نفاذ کر دیا جائے گا ۔ اپنے بیان میں سید حسن علی قادری نے کہا کہ سیاستدان یہ بھاشن دیتے نہیں تھکتے کہ قوموں پر مشکل وقت آتے ہیں سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ مشکل وقت صرف غریب اور پسے ہوئے طبقات پر آتے ہیں ،حکومتی خزانے سے مراعات لینے والے حکمرانوںاور بیورو کریسی کی اشرافیہ کو اس سے استثنیٰ حاصل ہے ۔ جب آپ پیٹرول سرکاری خزانے سے ڈلواتے ہیں، آپ کے گیس، بجلی کے بل قومی خزانے سے ادا ہوتے ہوں تو آپ کو غریب کی کیوں پرواہ ہو گی۔ سید حسن علی قادری نے کہا کہ ماہرین کے مطابق جی ایس ٹی میں ایک فیصد اضافے سے عوام پر 50ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے ۔بتایا جائے آج تک کس حکومت نے آئی ایم ایف سے چھٹکارے کےلئے کوئی پالیسی سامنے رکھی ہے ، اب عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے اور ان کے اندر پکنے والا لاوا کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں