بلوچستان کو ایک ہی عینک سے نہ دیکھا جائے، پائیدار عالمی ترقیاتی اہداف کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں ، ربابہ بلیدی

کوئٹہ : پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ پائیدار عالمی ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے فوری اقدامات ناگزیر ہیں ایس ڈی جیز کے لئے طے کردہ ٹائم فریم کے مطابق بہت سا کام ہونا باقی ہے اور عملا حالات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف شعبوں میں ایس ڈی جیز کے اہداف کا حصول ممکن نہیں ہو پائے گا جس سے عالمی سطح پر پاکستان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم اب بھی وقت ہے کہ پوری قوت اور سنجیدگی کے ساتھ ایس ڈی جیز کے مقررہ ٹارگیٹ کے حصول کے لئے کام کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیر سرکاری ادارے آواز سی ڈی ایس پاکستان کی معاونت سے ہارڈ بلوچستان کے زیر اہتمام صوبائی اسپاٹ لائٹ رپورٹ 2022 کی رونمائی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب میں میزبان اداروں کی جانب سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں ایس ڈی جیز کے مقررہ اہداف کے حصول میں پیش رفت کا جائزہ پیش کیا گیا اور مختلف سول سوسائٹی کے نمائندوں کی جانب سے مسائل اور مشکلات اور ان کے حل کی تجاویز پیش کی گئیں ، اس موقع پر ڈائریکٹر غیر رسمی تعلیم محکمہ سماجی بہبود محمد اشرف گچکی ، ڈپٹی سیکرٹری محکمہ ترقی نسواں جہاں آرا تبسم ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے مرکزی سینئر نائب صدر سلیم شاہد ، میر بہرام بلوچ ، شیخ عبدالرزاق ، میر بجار مری ، ظفر بلوچ سمیت صحافی، لائن ڈیپارٹمنٹس اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی موجود تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خاص ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کے ہر علاقے اور ضلع کے معاشی ، اقتصادی ، رہن سہن اور معاشرتی حالات و روایات دوسرے ضلع سے یکسر مختلف ہیں اس لئے غیر سرکاری سطح پر ہونے والے کسی بھی سروئے یا جائزہ رپورٹ کے لئے استعمال ہونے والے ٹولز کو ہر جگہ اپلائی نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس طرح کے یکساں جائزہ امور سے مطلوب خاطر خواہ نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں اس کے علاہ کسی بھی قسم کی جائزہ رپورٹ مرتب کرنے کے لئے کوئٹہ یا اس کے نذدیک واقع اضلاع کو نمونہ بناکر تمام صوبے کی درست تصویر پیش نہیں کی جاسکتی بلوچستان میں مختلف قبائل اور کلچر ہیں اس لئے ہر علاقے اور کلچر میں جائے بغیر مرتب کردہ کوئی بھی جائزہ رپورٹ زمینی حقائق کے منافی ہوگی اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام آباد سے بیٹھ کر پورے بلوچستان کو ایک ہی عینک سے دیکھنے کے بجائے حقائق پر مبنی اعداد و شمار مرتب کئے جائیں تاکہ اس مقصد کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی کے ثمرات گراس روٹ لیول پر پہنچیں اور یہاں کے لوگوں کو بھی علم ہو کہ قومی اور عالمی سطح پر ان کے لئے کیا سوچا جارہا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ پاکستان میں اپنی صنعتی آلودگی عالمی ماحولیات کے لئے تو خطرہ نہیں تاہم دو بڑے صنعتی ملکوں کے درمیان سینڈوچ کنٹری ہونے کے باعث گرین گیسز سے پاکستان شدید متاثر ہے گزشتہ سال کی غیر معمولی بارشیں اور سیلاب اسی ماحولیاتی تبدیلیوں کا تسلسل ہیں جس سے نمٹنے کیلئے عالمی اداروں اور ترقی یافتہ ممالک کو پاکستان کے مسائل سمجھنے ہوں گے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ایس ڈی جیز کے مقررہ اہداف کے حصول کے لئے جہاں بھی قانون سازی کی ضرورت ہوئی اتفاق رائے سے کی جائے گی اور عالمی کمنٹمنٹ پورا کرنے کے لئے بلوچستان کی صوبائی حکومت اپنے حصے کی انتظامی ذمہ داریاں ترجیح بنیادوں پر نبھائے گی۔ قبل ازیں پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے میزبان اداروں کے نمائندوں کے ہمراہ صوبائی اسپاٹ لائٹ رپورٹ 2022 کی باقاعدہ رونمائی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں