سندھ کے بلوچوں کو مردم شماری میں مادری زبان بلوچی اور براہوی لکھوانے سے روکا جارہا ہے، بی این پی

اسلام آباد (انتخاب نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں کراچی سمیت سندھ میں تنگ نظر گروہوں کی جانب سے وہاں پر آباد بلوچوں پر اپنی مرضی کا فیصلہ مسلط کرنے کی مذمت کرتے ہوئے گیا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ بلوچ قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بات پر مجبور کیا جائے کہ وہ مردم شماری میں اپنی مادری زبان بلوچی اور براہوئی نہ لکھوائیں بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام نہ مناسب اور ناقابل برداشت ہے تاریخ گواہ ہے کہ سندھ میں رہنے والے بلوچوں نے ہمیشہ سندھ دھرتی اور قومی تحریک سے وابستہ ہیں اور سندھ دھرتی کا پرچار کرتے رہے ہیں وہاں آباد بلوچوں نے سندھ کے مفادات کو ٹھیس نہیں پہنچایا بلکہ بلوچ روایات کے مطابق اخلاص کے ساتھ سندھ کی ترقی کیلئے جہد کرتے رہے آج بھی سندھی ثقافت ، تہذیب و تمدن میں بلوچ اہم کردار ادا کر رہے ہیں مگر اب سندھ میں بلوچ قوم کے ساتھ ایسی روش ناقابل قبول ہے، باقاعدہ عملی طور پر انہیں مجبور کرنا کہ بلوچ اپنی مادری بلوچی اور براہوئی نہ لکھوائیں جو باعث افسوس ہے فوری طور پر اس روش کو ترک کیا جائے کیونکہ ہر شہری کا حق ہے کہ وہ خانہ شماری ، مردم شماری میں اپنی مادری زبان لکھوائے بلوچوں کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں تاریخ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا نسلی طور پر جو بلوچ ہیں ان پر اپنے فیصلوں کو مسلط کرنا درست نہیں اس سے سندھ میں آباد بلوچوں کی دل آزادی ہو گی بیان میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت ، انتظامیہ اور مردم شماری ، خانہ شماری کے عملے کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ہر شخص کو تحفظ اور اس کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق مردم شماری کا حصہ بنا کر تحفظ دیں آج جو بھی زبان بولی جا رہی ہے وہ بلوچوں کی رواداری ہے کہ وہ سندھ میں سندھی بولتے ہیں اب مردم شماری خانہ شماری میں انہیں پابند نہ بنایا جائے اور ان سے ان کا حق نہ چھینا جائے بی این پی قومی جہد پر یقین رکھتی ہے کسی کو یہ اختیار نہ دے سکتے کہ وہ زبردستی اور اپنی منشا کے مطابق ان سے جینے کا حق بھی چین لے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں