بلوچستان حکومت کی جانب سے ادائیگیوں میں سست روی، پرائیویٹ سیکٹر میں کام ٹھپ ہوگئے

حب (نمائندہ انتخاب) ڈالر کی اونچی اُڑان آئی ایم ایف کی کڑی شرائط ملک میں مہنگائی عروج پر پہنچ گئی دیگر شعبہ زندگی کے معمولات متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیرات کا کنسٹرکشن کا شعبہ بھی جان بہ لب پر پہنچ گیا ایک طرف بلوچستان حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں میں سست روی تو دوسری طرف تعمیراتی مٹیریل کی قیمتوں میں ہوشر با اضافے کے بعد سرکاری ٹھیکیداروں نے ترقیاتی منصوبوں سے ہاتھ کھینچ لیئے جبکہ پرائیوٹ سیکٹر میں بھی تعمیراتی کا ٹھپ ہو کر رہ گئے رئیل اسٹیٹ کا کام بھی سسکیاں لینے لگا اس حوالے سے ایک محتاط سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملک میں مہنگائی کے حالیہ طوفان نے جہاں پر متوسط اور غریب طبقہ کے معمولات زندگی کو بُری طرح سے متاثر کیا ہے وہاں پرملک کے دیگر حصوں کی طرح بلوچستان میں تعمیرات کنسٹرکشن کا شعبہ بھی رو بہ زوال کا شکار ہوا ہے سیمنٹ کی فی بوری 1150روپے میں دکان سے پڑتی ہے اسٹیل (سریا ) فی ٹن 3لاکھ 17ہزار روپے سے3لاکھ 55ہزار روپے مزدور کی اجرت 1200روپے مستری کی دیہاڑی 2300روپے شٹرنگ فی اسکوئر فٹ 60سے80روپے ہوچکی ہے جبکہ اسکے مقابلے میں تعمیرات کے شعبے میں سرکاری ریٹ 2018ءکے کمپوزٹ شیڈول کے تحت حالیہ ریٹس کے مقابلے میں چوتھائی برابر بھی نہیں ہیں اسکے علاوہ سرکاری محکموں کے افسران سے اوپر تک کی کمیشن کام کی منظوری کی کمیشن ،انکم ٹیکس ،اور BRAٹیکس اسکے علاوہ ہیں سروے کے دوران بعض ٹھیکیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایک جانب سے صوبائی حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی ادائیگیوں میں رکاوٹ اور دوسری طرف تعمیراتی مٹیریل کے سامان کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچنے لیبر کاسٹ میں اضافے کے بعد سرکاری ٹھیکیداروں کی اکثریت نے سرکاری ترقیاتی منصوبوں پر موجودہ صورتحال کے پیش نظر ٹھیکیدار کام لینے سے گریزاں نظر آتے ہیں ایسی ہی صورتحال پرائیوٹ سیکٹر میں دیکھی جارہی ہے کہ جو لوگ گھر مکان بنگلے یا پھر کمرشل سطح پر تعمیرات کر رہے تھے وہاں پر بھی کام کی رفتار سست روی کا شکار ہو چکی ہے اور اس تمام صورتحال کے اثرات رئیل اسٹیٹ کے کاروبار پر بھی مرتب ہو ئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں