بارکھان سانحہ میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایاجائے گا، پولیس
کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک)پولیس کی ایک پریس ریلیز کے مطابق کہا گیا ہے کہ کل مورخہ 2023-02-20 کو بوقت رات 8 بجے SHO پولیس تھا نہ بارکھان کو اطلاع ملی کہ سوئمن ایریا جو پولیس تھانہ بارکھان ہے 07 کلو میٹر پر واقع ہے میں ایک کنویں کے اندر تین بوری بند لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی SHO زیر سر پرستی SDPO رکھنی پولیس پارٹی کے ہمراہ فوری طور پر جائے وقوعہ پہنچے۔ لاشوں کو کنویں سے باہر نکالا گیا جن میں ایک عورت جبکہ دو مرد بوریوں میں بند موجود پائے گئے ۔ ہر تینوں افراد کوسول ہسپتال بارکھان لایا گیا۔ سول ہسپتال بارکھان میں عبد القیوم بجرانی مری نے لاشوں کی شناخت کی۔ جس نے بتایا کہ یہ لاشیں 1- گراں ناز زوجہ خان محمد مری (بعمری 40/45 سال) 2 محمد نواز ولد خان محمد مری (عمری 20/25 سال) 3 عبد القادر ولد خان محمد مری سکنہ کو ہلو ( بعمر ی 15/20 سال)قانونی کاروائی کے بعد لاشوں کو اُن کے وارث عبدالقیوم بجرانی مری کے حوالے کیا گیا۔مورخہ 2022-11-16 سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان نے ایک مقدمہ میں اپنی زیر نگرانی DSP/SDPO بارکھان، SHO بارکھان همراه ATF ٹیم و دیگر پولیس پارٹی سردار عبدالرحمن کھیتر ان کی رہائش گاہ واقع حاجی کوٹ چھاپے مارے لیکن وہاں کوئی بھی فرد مقید نہیں پایا گیا۔ مورخہ 2023-01-18- مسمی خان محمد ولد نبی بخش مری ساکن دُ کی نے حکام بالا کو ایک درخواست دی جس میں اُس نے بتایا کہ اس کی بیوی اور بچے سردار عبدالرحمن کھیتر ان کی نجی جیل میں مقید ہیں جن کے ساتھ ظلم زیادتی ہورہی ہے اور اُن کی بازیابی کی استدعا کی۔ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان کو ہدایات جاری ہوئیں کہ سمی خان محمد ولد نبی بخش کی فیملی کو بازیاب کرانے کے لیے تمام تر اقدامات عمل میں لائیں۔ جس پر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس بارکھان نے خفیہ طریقے سے مغویان کے بارے میں معلومات حاصل کیں لیکن کوئی ٹھوس شواہد نہ مل سکے۔تاہم مورخہ 2023-02-20 کو سوئمن کے علاقے ضلع بارکھان میں کنویں سے بوری بند لاشیں ملیں اور شناخت پر وہ لاشیں مسمی خان محمد کی زوجہ اور اس کے دو بیٹوں کی تھیں ۔ مقتولین کے وارثین کی جانب مقدمہ کے اندراج ہونے پر ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ پولیس ہر پہلو سے واقعہ کی نسبت تفتیش عمل میں لا رہی ہے اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے گا۔


