بارکھان واقعے نے سب کا سر شرم سے جھکا دیا، نہتی خاتون کا قتل بلوچ روایات کی پامالی ہے، اسرار زہری

خضدار (بیورو رپورٹ) بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے مرکزی صدر سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے کہا ہے کہ بلوچ معاشرہ میں خواتین کا احترام کسی بھی مسئلے میں سب سے مقدم ہے،خونی معاملات میں خواتین جب درمیان میں آجاتی ہیں وہ خونی تنازعے بھی حل ہو جاتے ہیں مگر افسوس سانحہ بارکھان میں ایک نہتی خاتون اور اس کے دو جوان بیٹوں کو قتل کر کے کنویں میں پھنکنے کے دلخراش واقعہ نے نہ صرف روایات کو پامال کیا بلکہ یہ ثابت کر دیا کہ اب بلوچ اپنی رویات سے ہٹ گئے ہیں،مری قبیلہ کے خاتون اور دو نوجوانوں کے قتل کے واقعہ کی عدالتی سطح پر تحقیقات ہونی چائیے تھا کہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا۔ بی این پی (عوامی) نہ صرف بلوچ روایات کی پامالی کی مذمت کرتی ہے بلکہ خود کو اس سفاکانہ عمل میں متاثرہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک سمجھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میر اسرار اللہ خان زہری نے کہا کہ بلوچ ہزاروں سالہ روایات کی امین قوم ہے، بلوچ قوم خواتین پر حملہ آور نہیں ہوتی بلکہ خواتین کو تحفظ فراہم کرتی ہے، خواتین کا احترام یہاں تک مقدم ہے کہ اگر کوئی خونی تنازعہ کے بیچ میں خواتین پڑ جائیں تو وہ خونی تنازعہ کو خواتین کے احترام میں ختم کرکے ایک دوسرے کو معاف کیا جاتا ہے، تاریخ گواہ ہے کہ خواتین کے ننگ و ناموس کی حفاظت کے لئے بلوچ نے تاریخی قربانیاں دی ہیں مگر افسوس سانحہ بارکھان نے ہم سب کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ایک نہتی خاتون اور اس کے بیٹوں کو پہلے قتل کرنا،پھر خاتون سمیت ان کے بیٹوں کی نعشوں کی بے حرمتی کر کے انہیں اندھی کنویں میں پھینک دینا یقینا اس بات کی طرف نشاندہی کر رہی ہے کہ بلوچ قوم میں شامل کچھ عناصر بلوچ روایات کے بر خلاف اقدامات کر رہے ہیں بی این پی (عوامی) یہ سمجھتی ہے کہ یہ ایک انتہائی سنگین نوعیت کا معاملہ ہے اس معاملے پر عدالتی کمیشن بنایا جائے فریقین کی بات سننے کے بعد ایک مثبت رپورٹ مرتب کر کے بلوچ قوم اور بلوچستان کے عوام کو آگاہ کیا جائے کہ سفاک قاتل کون ہے اور کس نے بلوچ روایات کی پامالی کر کے روایت کش اقدام کا م ارتکاب کیا ہے بلوچ قوم کے تمام قبائلی و سیاسی زعماءکو اس روایات کش اقدام کی نہ صرف مذمت کرنی چائیے بلکہ جو بھی اس روایت کش اقدام میں ملوث ہے اس سے سوشل بائیکاٹ کرنا چائیے بی این پی (عوامی) یہ مطالبہ کرتی ہے کہ خان محمد مری کے خاندان کے جو باقی افراد ہیں انہیں باز یاب کر کے حفاظت سے والد کے سپرد کیا جائے اور واقعہ کے لئے فوری عدالتی کمیشن تشکیل دے کر اس واقعہ کو ملوث افراد کے لئے نشان عبرت بنانا چائیے ہم متاثرہ خاندان کے غم اور دکھ تکلیف میں ان کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں