قومی اسمبلی اجلاس ،سانحہ بارکھان کے ملزمان کو گرفتار کیا جائے ،اراکین کا مطالبہ
اسلام آباد(صباح نیوز)قومی اسمبلی اجلاس میں بلوچستان بارکھان میں خاتون کو دوبچوں سمیت قتل کرنے کی شدید مذمت کی گئی, اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعہ کی تحقیقات کرائی جائیں اور قاتلوں کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرائی جائے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں کئی ارکان نے اس حوالہ سے نکتہ ہائے اعتراض پر بات کی ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں جماعت اسلامی کے رکن اسمبلی مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ بلوچستان میں قتل کا ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا ہے، خاتون کو دوبچوں سمیت قتل کیا گیا ہے، خاتون نے قتل سے قبل قرآن پاک ہاتھ میں اٹھاکر کہا تھا کہ میرے بچے کھیتران کی قید میں ہیں، گزشتہ روزسے ان کے لواحقین لاشوں کے ساتھ احتجاج کر رہے ہیں۔عبدالاکبر چترالی نے کہا کہ اسپیکر صاحب ان کے قاتل کے خلاف ایف آئی آر کی رولنگ دے دیں۔ میں چیف جسٹس سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ اس کا نوٹس لیں۔انہوں نے کہاکہ تین بچے ابھی بھی قید میں ہے،گرینڈ دیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی رکن اسمبلی سائرہ بانو نے کہا کہ بلوچستان میں ظلم اور بربریت کی انتہا ہوئی ہے، لیکن مجھے انصاف کی امید نہیں۔انہوں نے کہا کہ کل نیب چیئرمین نے استعفی دیا، نیب مخالفین کو دبانے کیلئے بنایا گیا تھا، عدلیہ سے بھی درخواست ہے کہ دیکھا جائے کہ اتنے بڑے ادارے کے سربراہ کو کون دبا رہا ہے۔سید محمود شاہ نے کہا کہ کل کوہلو میں ایک دلخراش واقعہ ہوا ہے، تین افراد کو بیدردی سے قتل کر دیا گیا ہے، اس کی مذمت کرتے ہیں، واقعہ کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئے اورملزمان کو قرار واقعی سزا ملنی چاہئے۔۔ نصیبہ چنا نے کہا کہ بلوچستان میں افسوسناک اور سنگین واقعہ ہوا ہے، ملک میں انصاف ہونا چاہئیے، ہمیں اس پر دکھ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سندھ کی حکومت کام کر رہی ہے۔ محمد ابوبکر نے کہا کہ بلوچستان کا واقعہ ظاہرکر رہا ہے کہ 75 سال آزادی کے بعد بھی ہماری سوچ پرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیوں کا دکھ اپنی جگہ موجود ہے مگر لوگوں نے اب نجی جیلیں قائم کی ہیں، پاکستان کو بدنامی سے بچانے کیلئے احسن اقدامات اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کیلئے سبسڈی کا موثر نظام ہونا چاہئیے۔ موٹرسائیکل چلانے والوں کو پٹرول پر سبسڈی دینا چاہئے کیونکہ یہ غریب لوگوں کی سواری ہے۔انہوں نے کہا کہ جو ادارے نقصان میں جارہے ہیں ان کا سدباب ہونا چاہئیے۔ نجکاری صرف ان اداروں کی ہونی چاہیے جو نقصان میں جارہے ہیں، جو ادارے منافع کما رہے ہیں ان کی نجکاری درست نہیں ہے۔


