سانحہ بارکھان کے ذمے دار 2018ءمیں منتخب ہونیوالے لوگ ہیں، ڈاکٹر مالک
گوادر: سانحہ بارکھان بلوچی و اسلامی روایات کے منافی واقعہ ہے، 2018 کے انتخابات میں لائے جانے والے لوگ سانحہ بارکھان جیسے وقعات کے اصل ذمہ دار ہیں، ضلع گوادر کے لوگوں کا ذریعہ معاش ایرانی بارڈر ٹریڈ اور سمندر سے وابستہ ہے، ٹوکن سسٹم ختم کرکے بارڈر کو آزادانہ کاروبار کا مرکز بنایا جائے۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعلی بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ بارکھان انتہائی دلخراش سانحہ ہے، بلوچی اور اسلامی روایات کے منافی واقعہ دراصل 2018 کے عام انتخابات لائے جانے والے لوگ ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع گوادر کے لوگوں کا ذریعہ معاش سمندر اور ایرانی بارڈر ٹریڈ سے منسلک ہے،بدقسمتی سے بارڈر مافیا ور انتظامیہ کی گٹھ جوڑ سے بارڈر کے معاملات انتہائی خراب ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی سطح پر ڈالر کا ریٹ بڑھتے ہی ٹوکن کی قیمت بڑھ جاتی ہے جو کاروباری اور عام لوگوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ آج ٹوکن کی قیمت دو لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بارڈر مکران کے لوگوں کے لئے آزادانہ طریقے سے کھولنا چاہیے۔ تاکہ لوگ آسانی سے کاروبار کرسکیں۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ سی پیک میں گوادر اور بلوچستان کو ترجیح دینا چاہیے۔ ملازمتوں میں بھی گوادر اور بلوچستان کو ان کا حق ملنا چاہیے۔


