ماحل بلوچ کا جسمانی ریمانڈ نہ انصافی ہے، بھروسے پر دھرنا ختم کررہے ہیں، جلد رہا کیا جائے، لواحقین

کوئٹہ (انتخاب نیوز) کوئٹہ میں ماحل بلوچ کی اغوا نما گرفتاری، جھوٹا مقدمہ بنانے اور عدم بازیابی کیخلاف ریڈ زون میں لواحقین کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ماحل بلوچ کی فیملی نے ریڈ زون دھرنے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ جیسا کہ آپ لوگوں کے علم میں ہے کہ ماحل بلوچ کو 9 دن پہلے 17 فروری کی رات گیارہ بجے اسکے گھر سے اسکے دو بچیوں، بوڑھی ساس اور ایک بچی بانڈی کے ساتھ کوئٹہ کے سی ٹی ڈی پولیس نے غیر قانونی حراست کے بعد جبری لاپتہ کیا تھا، بعد ازاں دیگر کو رہا کیا گیا لیکن اگلے دن سی ٹی ڈی کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیہ میں ماھل بلوچ پہ جھوٹے الزامات لگائے گئے تھے اور ان جھوٹے الزامات کی بنیاد کو بنیاد بنا کر اس پر ناجائز مقدمات قائم کیے گئے، جو سراسر جھوٹ اور بے بنیاد ہیں ۔ ماحل بلوچ ایک نہتی معصوم اور بے قصور بیوہ ہیں جو اپنے بچیوں کی تعلیم اور مستقبل کیلئے کیچ سے کوئٹہ آگئی ہیں، ان پر دوران حراست تشدد کیا جارہا ہے، جس کے گواہ فیملی ممبران ہیں جن کو اسکے ساتھ اس رات حراست میں لیا گیا تھا، ہم نے اگلے کمرے سے اسکے رونے، چیخنے اور چلانے کی آوازیں آتی رہیں۔ ماحل کو جب پہلی دفعہ عدالت میں پیش کیا گیا تھا تو انکے وکیل کو بھی خبر نہیں کیا گیا، اس کو قانونی چارہ جوئی کا موقع بھی نہیں دیا گیا، اس پر ناجائز مقدمات کو بنیاد بنا کر اسے جسمانی ریمانڈ لیا جا رہا ہے جسکی وجہ سے وہ شدید ذہنی دباو¿ کا شکار ہیں اور کمزور ہو گئی ہیں ۔ کل جب ماحل بلوچ کو عدالت میں پیش کی گئی تو وہ عدالت کے احاطے میں بے ہوش ہو کر گر پڑی، اسکی حالت ٹھیک نہیں تھی، شدید ذہنی دباو¿ اور ریمانڈ کی وجہ وہ انتہائی کمزور ہو گئی ہیں ۔ ہم پچھلے تین دنوں سے یہاں ریڈ زون میں گورنر ہاو¿س کے سامنے اسکی رہائی اور اس پہ قائم مقدمات کے خاتمے کیلئے دھرنا دیئے بیٹھے ہیں ،اور ہمارا محض یہی ایک ہی مطالبہ رہا ہے۔ ہم بطور اس ملک کے پر امن شہری اس ملک کے آئین اور قانون کی پاسداری کرتے ہیں، اس امید پر ہم آج یہاں ریڈ زون سے اپنے احتجاجی دھرنے کو ختم کرنا کا اعلان کرتے ہیں اور عدالتی نظام پر بھروسہ کرتے ہیں کہ وہ ماحل بلوچ کو ضرور انصاف دیں گے اور ہم پر زور اپیل کرتے ہیں کہ اس پر ناجائز مقدمات اور ایف آئی آر ختم کرکے اسے فوراً طور پر باعزت رہا کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں