پنجگور میں تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار، مناسب عملہ نہ ہونے سے تدریسی سلسلہ منقطع
پنجگور : پنجگور کے دیہی علاقوں کے تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ،مناسب تدریسی اسٹاف دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوچکا ہے میل فی میل سائیڈ کی ہائی سیکشن میں 10 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود تقرریاں نہ ہوسکی ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں بچے اور بچیاں تعلیم سے محروم ہوکر گھروں میں بیٹھنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق پنجگور کے دیہی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں برائے نام ہیں محکمہ ایجوکیشن کو بھی نظریہ ضرورت کے تحت لیکر چلایا جارہا ہے سب تحصیل کلگ کے درجنوں سکولوں میں سے بمشکل تین سے چار سکول ایسے ہوں جن میں تدریسی سرگرمیاں جاری ہیں اکثر سکولوں میں صرف ٹیچروں کو ڈمپ کردیا گیا ہے جن سکولوں میں پڑھائی کا ماحول موجود ہے ان سکولوں میں مناسب تدریسی اسٹاف ہی موجود نہیں ہے بوائز ہائی سکول کلگ اور گرلز ہائی سکول کلگ میں ہائی سیکشن کی کلاسیں پچھلے کئی سالوں سے نہیں ہورہے ان سکولوں کی بھاگ دوڑ جے وی ٹیچرز کے زمے لگاکر تعلیمی استحصال کا نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے محکمہ تعلیم بلوچستان ہر سال ایجوکیشن کے فروغ اور گھر بیٹھنے بچوں کو سکولوں تک لانے کے لئے سالانہ کروڑوں روپے شعور اور آگاہی مہم کے نام پر مختلف پروگرامز کے زریعے خرچ کرتی ہے مگر جو مسائل بچوں کی تعلیم کے آگے رکاوٹ ہیں ان پر دانستہ یا غیر دانستہ طور پر کوئی توجہ نہیں دیا جاتا ہے اکیسویں صدی میں ہر شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ انکے بچے پڑھ لکھ کر ایک بہتر مستقبل کی طرف قدم رکھنے کے قابل بن سکیں مگر انکی یہ خواہش لاحاصل ہے کیونکہ محکمہ ایجوکیشن کی ترجیحات میں پسماندہ ایریاز کے سکولوں میں تعلیمی سلسلوں کو آگے بڑھانا مقصود ہی نہیں ہے سکولوں کی حالت جس طرح ہے اسی تسلسل کو برقرار رکھنا ہے اس وجہ سے ابھی تک بچوں کو ( ب بکری) (ت تختی) اور ج جنگلات کے پیچھے لگاکر ان سے جدید سائنسی اور دیگر ٹیکنیکل ایجوکیشن کے مواقعے چھین لئے گئے ہیں جب ایک ہائی سکول میں سالوں سے انگریزی ریاضی سائنس پڑھانے کا ماحول ہی موجود نہ ہو تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہر شخص کو یکسان تعلیم کے مواقعے میسر ہیں جن سے استفادہ کرکے وہ اپنے کل کو محفوظ بنائے محکمہ ایجوکیشن دیہی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے سکولوں میں تدریسی اسٹاف کی تقرریاں کرکے یکسان اور مناسب تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لئے پیشگی اقدامات کرے تاکہ جو سکول کھلے ہیں وہ بند نہ ہوجائیں اور ان میں تعلیمی سلسلے چل پڑیں ۔


