حکومت گزشتہ سال سے سرکاری ملازمین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، نیشنل پارٹی
کوئٹہ(این این آئی)نیشنل پارٹی نے گرینڈ الائنس کے قائدین اور دیگر سرکاری ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوری اور آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں جائز اور جمہوری حقوق کے لیے آواز بلند کرنا گویا شجرِ ممنوعہ بن چکا ہے۔ ملک بھر میں سرکاری ملازمین تنخواہوں، الاو¿نسز اور دیگر حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کرتے ہیں اور حکومتیں مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بلوچستان حکومت گزشتہ ایک سال سے ملازمین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے اور ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے تشدد اور گرفتاریوں کا راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان اس وقت واحد صوبہ بن چکا ہے جہاں ملازمین ڈاکٹرز تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز احتجاج اور ہڑتالوں پر مجبور ہیں، مگر حکومت اس تشویشناک صورتحال کا ادراک کرنے کے بجائے طاقت کے استعمال کو ترجیح دے رہی ہے۔ حکومت کا طرزِ عمل و بیانیہ ہی تشدد اور جبر پر مبنی ہے۔ سیاسی کارکنوں کے ساتھ روزِ اول سے آئین اور قانون کے منافی رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب ملازمین بھی حکومتی جارہانہ کارروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ کہ گرفتار ملازمین اور گرینڈ الائنس کے رہنماو¿ں کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور مسائل کے پائیدار حل کے لیے سنجیدہ اور بامعنی مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔


