پشتون بلوچ طلبہ تصادم کو قومی و لسانی رنگ دینے کے بجائے مسئلہ افہام و تفہیم سے حل کیا جائے، اسرار زہری
خضدار (انتخاب نیوز) اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی میں بلوچ پشتون طلباءکے درمیان تصادم افسوسناک و قابل مذمت ہے، بلوچ پشتون برادر اقوام ہیں، ملکر غضب شدہ حقوق کی حصول کیلئے اتحاد و اتفاق کے لیے ماحول سازگار بنائیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے مرکزی صدر و سابق وفاقی وزیر میر اسراراللہ خان زہری نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے بلوچ پشتون برادر اقوام ملکر غضب شدہ حقوق کے حصول کیلئے اتفاق و اتحاد کو مضبوط تر بنائیں۔ قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں بلوچ پشتون طلباءکے مابین ہونے والا تصادم قابل مذمت عمل بلکہ قابل سزا ہے۔ بلوچ پشتون اتحاد کو برقرار رکھنے کے لئے بزرگ سیاسی اکابرین کا کلیدی اور تاریخی کردار ہے کیونکہ دو برادر اقوام نے ہمیشہ اپنے قومی حقوق و اختیار، زبان وجود کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کرتے ہوئے استعماری قوتوں کی توسیع پسندانہ پالیسیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے یہ رشتہ آج کا نہیں ہے بلکہ نوری نصیر خان اور احمد شاہ ابدالی کے وقت سے چلے آ رہے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشکل اور کٹھن وقت پر بلوچ پشتون اکابرین نے مشترکہ طور پر جدوجہد کی تو انہیں دنیا کی کوئی حملہ آور طاقت زیر نہیں کر سکا۔ ذاتی مراعات مفادات اور اقتدار پر براجمان عناصر آج بااختیار قوتوں کی لوٹ کھسوٹ اور استحصال کی پالیسیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے بلوچ اور پشتون اتحاد میں روڑے اٹکانے اور مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے کسی بھی صورت میں کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔ بی این پی عوامی کے مرکزی صدر میر اسرار اللہ خان زہری نے مزید کہا کہ پشتون اور بلوچ تصادم کو کوئی قومی و لسانی رنگ دینے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی اس عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہیں اور تمام بلوچ و پشتون قیادت سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی استدعا کرتی ہے اس طرح کی لشکر کشی اور پری پلانڈ حملہ دراصل دوسری قوتوں کے ناپاک عزائم کی علامت ہے۔ بی این پی عوامی کے مرکزی صدر و سابق وفاقی میر اسراراللہ خان زہری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا بلوچ نوجوانوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہیں۔ اس تمام صورتحال سے یہی اخذ کیا جاتا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے یہ واقعہ رونما ہوا۔ اسلام آباد انتظامیہ بالخصوص یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ شفاف تحقیقات کرکے ملزمان کو قرار واقعی سزا دے دیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی دو برادر اقوام بلوچ پشتون نوجوانوں کے درمیان میں رونما ہونے والا واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتی ہے پشتون ہمارے بھائی ہیں پشتون خود ایک محکوم قوم ہے تمام سیاسی اکابرین کو اس معاملے کے حل کیلئے قدم اٹھانا چاہیے۔


