ڈیجیٹل مردم شماری کا عملہ غیر تربیت یافتہ اور سہولیات سے محروم ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے وفد میں شامل مرکزی کمیٹی کے اراکین حاجی نیاز بلوچ، یونس بلوچ، صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار، ضلع فنانس سیکرٹری کوئٹہ سعید سمالانی، عثمان لانگو ملک منظور شاہوانی نے عوامی شکایات پر ڈپٹی کمشنر کوئٹہ شہک بلوچ سے انکے آفس میں ملاقات کی اور انہیں ان عوامی شکایات سے آگاہ کیا جس پر انہوں نے ان شکایات کو فوری طور پر حل کے لیئے یقین دہانی کرایا۔ در اثناءملاقات میں نیشنل پارٹی کے وفد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خانہ شماری کی سست روی، ٹیم کی سیکورٹی اور انکے ٹرانسپورٹ سمیت دیگر سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے خانہ شماری جیسا اہم معاملہ اب تک مکمل طور پر شروع نہیں ہوسکا ستم ظریفی کی بات ہے کہ اب تک اساتذہ کے ناقص ٹریننگ کی وجہ سے فیلڈ میں انہیں ڈیجیٹل حوالے سے مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے حتی کہ اس جاری عمل میں پاکستانی شہریوں اور مہاجرین کی شناخت کا کوئی خاطر نظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بے چینی کا سامنا بھی کرنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ان متوقع مشکلات کے حوالے سے ماضی قریب میں بھی حکام بالا کو باضابطہ خط کی صورت میں آگاہ کیا تھا جس پر ظاہرا غور نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے آج یہ تمام خدشات درست ثابت ہورہے ہیں۔ اگر کوئٹہ جیسے شہر میں مشکلات کا یہ عالم ہے تو اندرون بلوچستان یہ معاملات یقینا ابتر ہونگے۔ مردم شماری اسٹاف کو بلوچستان بھر نیشنل پارٹی کی مکمل تعاون خاص ہے۔ ہم حکام بالا بالخصوص چیف سیکرٹری سے ایک دفعہ پھر مطالبہ کرتے ہیں کہ لسٹنگ کے دورانیے کو مزید ایک ہفتہ بڑھاتے ہوئے فوری طور پر نمائندگان شماریات کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے تا کہ اس حساس عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے اور مہاجرین کو باقاعدہ طور پر افغان رجسٹرڈ کیا جائے بصورت دیگر نیشنل پارٹی سخت ردعمل اپنائے گی۔ ہم اپنے اساتذہ کرام خصوصا مردم شماری اسٹاف سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے دور دراز مضافاتی علاقوں میں سادہ لوح اور ناخواندہ خاندانوں کی ہر ممکن حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ بھی اس اہم اور حساس مرحلے میں شامل ہو اور ہم اپنے پڑھے نوجوانوں تمام طبقہ فکر سے بھی دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس مرحلے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اپنے تمام تر صلاحیتوں کا استعمال کریں تاکہ کوئی خاندان اس مرحلہ میں رہ نہ جائے جس کا خمیازہ ہمیں آنے والے دس سال تک بھگتنا پڑے گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں