بلوچستان میں ٹیکنالوجی پروگراموں تک خواتین کی رسائی ممکن بنائی جارہی ہے، ربابہ بلیدی

کوئٹہ:پارلیمانی سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ بلوچستان کی خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں ہنر مند اور معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لئے انکلوژن آف وویمن ان دی ڈیجیٹل اکانومی کے نام سے منصوبہ شروع کیا جائے گا خواتین کو ڈیجیٹل سکلز سکھانے کا یہ پروگرام ڈیجیٹلائزیشن تک خواتین کی رسائی میں معاون ثابت ہوگا اور صنفی بنیادوں پر آئی ٹی کے شعبے میں پائے جانے والے گیپ میں کمی کا موجب ہوگا ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کیا ۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان میں ٹیکنالوجی کے پروگراموں تک خواتین کی زیادہ سے زیادہ رسائی کے لئے ایسے قابل عمل منصوبوں پر کام کیا جاررہا ہے جو خواتین کی معاشی ترقی کے لئے کارگر ثابت ہوں خواتین کی اکثریت اپنے گھرانوں کی مالی منصوبہ بندی اور انتظام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ڈیجیٹل مالی خدمات کی بنیادی مہارتوں کی فراہمی کے اس منصوبے سے خواتین کی ایک بڑی تعداد کو غربت کی دلدل سے نکالا جاسکتا ہے انہوں نے کہا کہ امسال خواتین کا عالمی دن صنفی مساوات پر مبنی ڈیجیٹل رسائی سے منسوب کیا گیا ہے اگرچہ پاکستان میں خواتین کی بہتری کے لیے کئی اقدامات کئے گئے ہیں تاہم اس کے باوجود ابھی اس سلسلے میں بہت سا کام کرنے کی ضرورت ہے پاکستان میں خواتین کی صورتحال میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتری آ رہی ہے آج خواتین کے مسائل پر کھل کر بات ہوتی ہے خواتین کے حوالے سے قانون سازی میں بہتری آ رہی ہے، اور ان کی ’اکنامک ایمپاورمنٹ‘ کی بات ہو رہی ہے سیاسی عمل میں خواتین کی شرکت میں اضافہ ہوا ہے خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم کے خلاف سول سوسائٹی اور میڈیا کی طرف سے مثبت طرز عمل کا مظاہرہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو ایک بہتر پیش رفت ہے ۔ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی خواتین کو آئی ٹی کے شعبے میں مہارتوں کے لئے زیادہ سے زیادہ مواقعوں کی فراہمی کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں بار آور ثابت ہوں گی اور اس کے مثبت نتائج آئندہ ایک سال کے اندر سامنے آنا شروع ہو جائیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں