اٹلی کشتی حادثے میں جاں بحق شاہدہ رضا کا جسد خاکی پاکستان لانے کے اقدامات کیے جائیں، یاسمین لہڑی
کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے رہنماءمحمد رمضان ہزارہ سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی نے کہا ہے کہ حکومت قومی ہاکی کی کھلاڑی شاہدہ رضا سمیت دیگر پاکستانیوں کا جسد خاکی پاکستان لانے کیلئے عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے کھیلوں کے فروغ کو یقینی بنانے کیلئے گراﺅنڈز کی ناقص تعمیر کانوٹس لیتے ہوئے غیر فعال گراﺅنڈز میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کی جائے، یہ بات انہوں نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں کاشف حیدری ، اسحاق چنگیزی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہی محمد رمضان ہزارہ کا کہنا ہے کہ اٹلی کے سمندر میں کشتی حادثے میں درجنوں لوگوں کے ہمراہ قومی ہاکی کی کھلاڑی فٹبالر شاہدہ رضا بھی زندگی کی بازی ہار گئی، جو پاکستان میں معاشی حالت زار اور غربت سے تنگ آکر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے یورپ جار ہی تھی، شاہدہ رضا نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کی ہے اور ملک کا نام اپنی صلاحیتوں سے روشن کیا ہے دیار غیر میں حادثے میں انکی موت حکومت اور محکمہ سپورٹس کی ناقص کارکردگی کا واضع ثبوت ہے انکے اہلخانہ اپنی بچی کا جسد خاکی ملک واپس لانے کے منتظر ہیں، اس لئے شاہدہ رضا سمیت پاکستان کے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں ملک میں لاکر عزت اور تعظیم کےساتھ سپرد خاک کی جائیں محکمہ کھیل اور وزراءکی کرپشن کے چرچے عرج پر ہیں، ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اسکی میت تاحال واپس نہیں آسکی کوئٹہ میں کھیلوں کے گراﺅنڈ ز جس میں قیوم پاپا چنگیزی فٹبال ا سٹڈیم گزشتہ دو سال سے ،صفدر بابل ہاکی گراﺅنڈ2016 سے بند پڑا ہے،اسکے علاوہ ہزارہ ٹاﺅن میں سپورٹس کمپلکس کو بھی فعال بنانے کی بجائے مسمار کر دیا گیا، صفدر بابل ہاکی گراﺅنڈ میں غیر معیاری آسٹر و ٹروف بچھایا گیا اور اب یہی عمل قیوم پاپا چنگیزی فٹبال گراﺅنڈ میں دہرایا جا رہا ہے جس سے کھلاڑیوں میں تشویش پائی جاتی ہے حکومت اور محکمہ کھیل کی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے اقدامات کا نوٹس لے اور اپنے کھلاڑیوں کو روزگار سہولیات اور وسائل فراہم کرے یاسمین لہڑی نے کہا ہے لاشوں پر سیاست نہیں کرنی چاہئے ،ماضی میں بھی حکومت کی نا اہلی کیخلاف لوگ سراپا احتجاج رہے ہیں کھیلوں کے میدان آباد ہونگے تو ہسپتال ویران ہونگے ہمارے نوجوانوں اور بچیوں میں صلاحیتوں کی کمی نہیں مذکورہ واقعہ حکومت اور محکمہ کھیل کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے حالانکہ وزیر کھیل کا تعلق بھی اسی کمیونٹی سے ہے مہذب معاشرے میں ایسا نہیں ہوتا ہمیں اس طرح کے غلط کاموں کیخلاف آواز اٹھانی چاہیے۔


