گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کی فعالیت، رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے کا امکان
گوادر (این این آئی) بلوچستان کا ابھرتا ہوا بندرگاہی شہر گوادر میں 246 ملین ڈالر کا گرین فیلڈ گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ رواں سال مکمل فعال سے شہر میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع و جائیداد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی مکمل فعالیت سے گوادر شہر رئیل اسٹیٹ اور سرمایہ کاری کا گڑھ بن جانے طرف گامزن ،گوادر میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پہلے ہی گوادر انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے فائدہ اٹھانے اور بہتر سرمایہ کاری کرنے حوالے منصوبہ سازی شروع کردی ،ذرائع دنیا میں عام مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، جب بھی کسی شہر میں کوئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ تیار ہوتا ہے، تو یہ اس کی رئیل اسٹیٹ و سرمایہ کاری پر مثبت اثر ڈالتا ہے، معاشی ماہرین ۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کا ابھرتا ہوا بندرگاہی شہر گوادر میں رواں سال بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مکمل طور پر فعال ہونا متوقع ہے ،ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ سب سے بڑا اور جدید ایئرپورٹ رواں سال آزمائشی پرواز کے مراحل کے بعد ستمبر میں بین الاقوامی پروازوں کے لئے باقاعدہ طور پر کھول دیا جائے گا۔تفصیلات کے مطابق گوادر کو خطے کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ فائدہ مند فری ٹریڈ زون بنانے کے لیے حکام کی جانب سے ایک عظیم الشان بین الاقوامی ہوائی اڈہ گوادر میں مکمل طور پر تیار کیا گیا جس کی سہولت کا تصور ملکی اور بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کے لیے بہترین درجے کی خصوصیات کے ساتھ کیا گیا ہے، جس سے ایک عالمی منزل کے طور پر بندرگاہی شہر کی اہمیت کو بڑھانے میں کارگر ثابت ہوگا ، معاشی ماہرین کے مطابق دنیا میں عام مارکیٹ کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، جب بھی کسی شہر میں کوئی بین الاقوامی ہوائی اڈہ تیار ہوتا ہے، تو یہ اس کی رئیل اسٹیٹ و سرمایہ کاری پر مثبت اثر ڈالتا ہے،گوادر ہوائی اڈے کا میگا پراجیکٹ بہت بڑے پیمانے پر تیار کیا گیا ہے، جو کہ صوبہ بلوچستان کے تقریباً تمام بین الاقوامی اور ملکی ہوائی اڈوں سے بڑا ہے۔جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اور ملک بھر میں اسی طرح کی دیگر سہولیات کی طرح، گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی دنیا بھر کی ایئر لائنز اور مسافروں کو خدمات فراہم کرے گا۔واضع رہے کہ بلوچستان کا ابھرتا ہوا بندرگاہی شہر گوادر میں بین الاقوامی ہوائی اڈے کی فعالیت سے حالیہ برسوں میں رئیل اسٹیٹ ، سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی کا گڑھ بن جانے کے قوی امکان ہیں جو اس وقت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ، دریں اثنا ءیہ چائنا بیلٹ روڈ انیشیٹو کا ایک لازمی حصہ ہے، جسے مقامی طور پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ علاو¿ہ ازیں گوادر بندرگاہ ، میرین ڈرائیو اور گوادر کرکٹ اسٹیڈیم جیسے منصوبوں نے شہر کی مجموعی قدر میں پہلے ہی سے بہت زیادہ اضافہ کیا ہے۔


