مردم شماری کا سرکاری عملہ غیر ملکیوں کو شمار کرنے سے باز رہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) غیرملکی بالخصوص افغان مہاجرین کی مردم شماری میں بحیثیت پاکستانی شہری شمولیت کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کا مردم شماری کے حوالے سے ایک اہم اجلاس زیر صدارت رکن مرکزی کمیٹی و ضلعی صدر حاجی عطاءمحمد بنگلزئی پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ کوئٹہ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خانہ شماری کے دوران پارٹی کے ذمہ داران کی جانب سے رپورٹس پیش ہوئیں جنہیں زیر بحث لاتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی کے رکن و ضلعی صدر کوئٹہ حاجی عطاءمحمد بنگلزئی، اراکین مرکزی کمیٹی حاجی نیاز بلوچ، محراب بلوچ، یونس بلوچ، صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار، صوبائی خواتین سیکرٹری کلثوم نیاز بلوچ، صوبائی لائرز سیکرٹری ایڈووکیٹ جلیل لانگو، اراکین صوبائی ورکنگ کمیٹی صدیق کھیتران اور سلمیٰ قریشی نے کہا کہ خانہ شماری کے دوران تنظیمی طور پر نیشنل پارٹی کے جن دوستوں نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں وہ قابل ستائش ہے۔ ڈیجیٹل خانہ و مردم شماری کے مرحلے میں تمام تر خدشات کے باوجود نیشنل پارٹی اس وقت پورے بلوچستان میں مردم شماری اسٹاف کے ساتھ ملکر اپنی قومی سیاسی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔ پارٹی کی مرکزی ہدایات کے مطابق نیشنل پارٹی کوئٹہ کے دوست جاری مردم شماری کے مرحلے میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے تاہم ایک بات واضح کردینا چاہتے ہیں کہ اس اہم اور حساس مرحلے میں پاکستانی شہریوں کے بنیادی حقوق کو ملحوظ خاطر رکھا جائے، دانستہ طور پر غیر ملکی بالخصوص افغان مہاجرین کو مردم شماری میں بحیثیت پاکستانی شہری شمار کرنے کی کسی بھی عمل کا شدید مخالفت کریں گے، اس سے بلوچستان میں مقامی برادر اقوام چاہے بلوچ، پشتون ہوں یا ہزارہ ان کے حقوق کی پامالی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے، ایسے کسی بھی عمل کا سیاسی طور پر شدید ردعمل دیا جائے گا۔ اجلاس میں تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے رہنماﺅں نے کہا کہ سیاسی اور عوامی حلقوں میں اطلاعات کے مطابق سرکاری اسٹاف کے ساتھ ملکر غیر ملکی بالخصوص افغان مہاجرین کو شمار کرنے کیلئے حکمت عملیاں ترتیب دیا جارہا ہے جس کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور اگر اس عمل میں ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے تو نیشنل پارٹی قطعاً اس جاری مردم شماری کے نتائج کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ اجلاس میں ضلعی جنرل سیکرٹری ریاض زہری، ضلعی لیبر سیکرٹری نصراللہ شاہوانی، تحصیل جنرل سیکرٹری پی بی 43 عارف کرد، غفار قنبرانی، ملک منظور شاہوانی، عالم بنگلزئی، صالح بنگلزئی، الفت بنگلزئی نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں