جامعہ بلوچستان کا مالی بحران، جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا وی سی سیکرٹریٹ میں احتجاجی کیمپ

کوئٹہ:جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے زیر اہتمام ماہ مارچ کی تنخواہ کی تاحال عدم ادائیگی ، بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ2022 کی پالیسی ساز اداروں میں اساتذہ کرام، آفیسران، ملازمین اور طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی کےلئے، غیر قانونی طور پر مسلط وائس چانسلر کی برطرفی، آفیسران و ملازمین کی پروموشن، اپ گریڈیش اور ٹائم اسکیل کی فراہمی، ڈی ار اے کے بقایاجات، فوت شدہ ملازمین کے بچوں کی تعیناتی، ملازمین کی اوورٹائم اور چار کول الاﺅنس و دیگر کےلئے آج جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ کرام خاص کر خواتیناساتذہ، آفیسران اور ملازمین نے شرکت کی۔ مظاہرین نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں زبردست نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے پروفیسر ڈاکٹر کلیم اللہ بڑیچ، شاہ علی بگٹی، نذیر احمد لہڑی، فریدخان اچکزئی، نعمت اللہ کاکڑ، پروفیسر ارسلان شاہ، محمداسحاق پرکانی، پروفیسر ڈاکٹرعابدہ بلوچ، پروفیسر فرہانہ عمر مگسی، سعید شاہ بابر ، حافظ عبدالقیوم اور دیگر نے خطاب کیا۔مقررین نے کہا کہ نااہل وائس چانسلر نے اساتذہ کرام اور ملازمین کو اتنا مجبور کیا کہ وہ اپنے جائزحقوق کے لئے ہر مہینہ احتجاج پر مجبور ہوتے ہیں۔مقررین نے گورنر بلوچستان سے پرزور مطالبہ کیاکہ وہ اس نااہل وائس چانسلر کو فوری طور پر برطرف کر یں اور صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جامعہ بلوچستان کی مالی و انتظامی بحران کی مستقل خاتمے کیلئے جامعہ بلوچستان کے لئے کم ازکم دو ارب روپے کا بیل آٹ پیکیج فراہم کریں اور صوبے کی تمام سرکاری جامعات کیلئے 10 ارب روپے کا انڈونمنٹ فنڈز رکھے۔مقررین نےکہا کہ سازش کے تحت بلوچستان یونیورسٹیز ایکٹ 2022 میں پالسی ساز اداروں سے اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین و طلبا وطالبات کی منتخب نمائندگی یکسر ختم کرکے دراصل جامعات کو آمرانہ طرز پر چلانے کی راہ ہموار کی اور آفیسران و ملازمین کو پروموشن، ٹائم اسکیل، اپ گریڈیشن سے محروم رکھا گیا۔مقررین نے اعلان کیا کہ وائس چانسلر سیکرٹریٹ میں احتجاجی کیمپ مطالبات کی منظوری تک جاری رہیگا اور تمام اساتذہ کرام، آفیسران اور ملازمین سے درخواست کیا کہ وہ روزانہ صبح 9 بجے احتجاجی کیمپ میں اپنی بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں