موجودہ سیاسی بحران انتہائی خطرناک، خدشہ ہے عدالتیں بھی معاملات حل نہ کر سکیں تو حالات کہاں جائینگے ،نیشنل پارٹی رہنماء
کوئٹہ : نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر انوار الحق کاکڑ، تحریک نوجوانان کے سربراہ عبداللہ گل نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران انتہائی خطرناک ہے، خدشہ ہے کہ عدالتیں بھی معاملات حل نہ کر سکیں تو حالات کہاں جائینگے ،بلوچستان کے وسائل پر حکومت کو زیادہ مالی اختیار دیئے جائیں کیونکہ بلوچستان فیڈریشن کی اہم اکائی ہے اس کو مستحکم کر کے آگے بڑھنے میں مدد ملے گی ریکوڈک ، سیندک اور سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کی ضرورت کے مطابق حصہ دینا ہوگا ،تاکہ لوگوں میں پائے جانے والے خدشات کو دور کیا جاسکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کوجامعہ بلوچستان کے تحت” بلوچستان میں مفاہمت اور نوجوانوں کے کردار کے“ موضع پر منعقدہ ڈائیلاگ کے شرکاءسے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں سیاسی ، معاشی مفاہمت ، معاشرے کو بہتر بنانے اور اعتماد سازی پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران انتہائی خطرناک ہے ،خدشہ ہے کہ عدالتیں بھی معاملات حل نہ کرسکیں تو حالات کہاں جائیں گے اس لئے تمام قیادت کو اس بارے میں سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا تاکہ حالات کی سنگینی کا ادراک رکھتے ہوئے معاملات کو حل کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جا سکیں، مقررین کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے وسائل پر یہاں کی حکومت کو زیادہ سے زیادہ مالی اختیارات دیئے جائیں ملک کی اس اہم اکائی کو مستحکم کرکے دنیا کے ساتھ مقابلے اور یہاں لے لوگوں کو روزگار دینے کی راہ ہموار کی جائے تاکہ بلوچستان کی پسماندگی اور لوگوں میں پائے جانے والے احساس محروم کودور کیا جا سکے،بلوچستان فیڈریشن کی سب سے اہم اکائی ہے ،اس کے مسائل کو حل کرکے آگے بڑھنے میں مددحاصل کی جا سکتی ہے اس لئے بلوچستان کے میگا منصوبے ریکوڈک۔سیندک اور سی پیک منصوبوں میں بلوچستان کی ضرورت کے مطابق حصہ دینا ہوگا تاکہ لوگوں کو ان کا حق دیکر ان میں پائی جانے والے تشویش دور کی جا سکے ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر ان کی افادیت کے ثمرات عوام تک منتقل کر کے انہیں کامیاب بنانے میں مدد ملے گی اس لئے لوگوں کو میگا منصوبوں کے توسط سے روزگار کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور تمام مسائل کے حل کیلئے بات چیت اور ڈائیلاگ کے عمل کو آگے بڑھانے اور ان کو نتیجہ خیز بنانے کیلے ضروری ہے کہ بلوچستان کے لوگوں اور سیاسی کارکنوں کے تحفظات سنے جائیںاور اسکے بعد بہتر اور مثبت پیش رفت کر کے آگے بڑھتے ہوئے ملک میں جاری سیاسی کشمکش کو ختم یا کم کرنے کیلے مدد حاصل کی جا سکتی ہے ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کو ملکی مفاد میں ایک نقطے پر متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا ملکی معیشت کواستحکام دینے کیلئے مشترکہ اہداف مقرر کئے جائیں بلوچستان کے نوجوانوں اور سیاسی رہنماوں کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری رکھا جائے تاکہ یہاں کے نوجوان خود ہی مسائل کا حل نکالیں اس موقع پر نوجوانوں نے بھی صوبے میں جاری مزاحمت کے خاتمے اور سیاسی نظام کی بہتری کے لئے تجاویز بھی دیں،مقررین کاکہنا تھا کہ ان تجاویز کی روشنی میں آگے بڑھنے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اس موقع پر پروفیسر فائزہ میر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔


