پنجگور میں انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندش کیخلاف سیاسی جماعتوں اور عوامی حلقوں کا شدید احتجاج
پنجگور : پنجگور میں انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندیش کے خلاف اسٹوڈنٹس سول سوسائٹی ودیگر سیاسی رہنما سول سوسائٹی کے صمد صادق اسٹوڈنٹس الائنس کے فہد آصف نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق صوبائی اسمبلی کے رکن حاجی محمد اسلام بلوچ پاکستان مسلم لیگ ن مکران کے صدر و آل پارٹیز کے وائس چیئرمین اشرف ساگر جے یوآئی کے حاجی عبدالعزیز جماعت اسلامی کے مفتی صفی اللہ حق دو تحریک کے آرگنائزر ملا فرہاد ڈاکٹر نور ودیگر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں شہریوں کو بنیاد سہولیات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ کی سہولت دی جاتی ہے لیکن پاکستان میں بلوچستان کے بیشتر علاقے انٹرنیٹ ڈیٹا جیسی سہولیت سے محروم ہیں آئین 1973 کے آرٹیکل نمبر 25 کے مطابق ریاست پاکستان ہر شہری کو برابری کی بنیاد پر سہولیات فراہم کرنے کی پابند ہے۔ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اپنے شہریوں کو اور سیکورٹی فراہم کرےانہوں نے کہا ہے کہ اکیسویں صدی میں ہم سولہویں صدی جیسی زندگی بسر کررہے ہیں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہمارا رابطہ دنیا سے منقطع ہے۔ انفارمیشن حاصل کرنا ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور آج کی تاریخ میں انفارمیشن حاصل کرنے کا سب سے موثر ذریعہ انٹرنیٹ ہے جس سے ہمیں محروم رکھا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں کہا جاتا ہے کہ سیکورٹیوجوہات کی وجہ سے پنجگور میں انٹرنیٹ کو غیر فعال رکھا گیا ہے۔کیا پاکستان کے دوسرے شہروں میں تخریب کاری کے واقعات نہیں ہو رئے ہیں دھماکے اور ٹارگٹ کلنگ نہیں ہوتے؟ اگر وہاں انٹرنیٹ کو بند نہیں رکھا جاتا تو کیوں پنجگور کو اس بنیادی سہولت سے محروم رکھا جارہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ کیا پی ٹی اے یا دیگر ذمہ داران کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ پنجگور میں سیکورٹی ریزن کی وجہ سے انٹرنیٹ بند کیا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ تھری جی اور فور جی کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہر شعبہ بری طرح متاثر ہوچکا ہے اسٹوٹنس اور کاروباری طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہیں اسٹوٹنس کو اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے میں بہت سے مشکلات کا سامنا ہے بغیر انٹرنیٹ کی سہولت کے تعلیم حاصل کرنا ایک بہت بڑی چیلنج ہے۔ کاروباری طبقے کا دارومدار انٹرنیٹ پر ہے اس جدید دور میں سوشل میڈیا وہ واحد ذریعہ ہے جس سے کمیونیکیشن کو بحال کیا جاسکتا ہے علاقے کی ترقی کا دارومدار مواصلاتی نظام سے ہے انہوں نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ وہ واحد ذریعہ ہے جس سے عوام اپنی آواز کو دنیا بھر میں پہنچا سکتے ہیں پچھلے سال بارشوں کی وجہ سے پنجگور میں زمین داروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوا دنیا سے رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے کسی بھی انٹرنیشنل میڈیا نے اس کو رپورٹ نہیں کیا ناکہ ملکی میڈیا تک ہم اپنی تکلیف کو پہنچا سکے انٹرنیٹ کو بند کر کے اشرافیہ طبقہ لوٹ ماری کا بازار گرم کر چکی ہے لوگوں کے پاس انفارمیشن حاصل کرنے کا کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے عوام کو تعلیم اور کاروبار سے دور رکھنے کی ایک سازش کی جارہی ہے ضلعی انتظامیہ ٹوکن کے نام پر اربوں روپے کما رہی ہے غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں انہوں نے کہا ہے کہ اپنے حق کے حصول کے لئے احتجاج کرنا ہمارا بنیادی حق ہے ہم اس سے دستبردار نہیں ہونگے انہوں نے کہا ہے کہ 3G 4G کی بندش کے خلاف 9 مارچ کو ایک پریس کانفرنس کی گئی تھی اور 15 مارچ کو انٹرنیٹ کی بحالی کے لئے ڈی سی آفس کے سامنے ایک احتجاج ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ضلعی انتظامیہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے آج اس پر ہجوم پریس کانفرنس کی توسط سے ہم ضلعی انتظامیہ کو چند ہفتوں کی مہلت دیتے ہیں اگر پنجگور میں 3G 4G بحال نہ کیا گیا تو ہم مجبور ہوکر پنجگور میں تمام نیٹورکز فرنچاہز کو بند کرکے احتجاج کو مزید وسعت دیں گے جس میں ہم شٹرڈان ہڑتال اور سی پیک روڑ اور ڈی سی کو غیر مہیا مدت کے لئے بند کریں گے ان سب کا ذمہ دار ضلعی انتظامیہ ہوگی ۔


