بلوچستان کے نوجوان بھوک و افلاس اور زیادتیوں کے باعث پہاڑوں کا رخ کررہے ہیں، عبداللہ گل

کوئٹہ: تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبداللہ حمید گل نے بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی میں امن سے منسلک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کو اللہ تعالی نے جہاں ہر طرح کے وسائل سے نوازا ہے وہی بلوچستان کو مصنوعی طور پر بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہاں کے سیاسی جماعتیں اپنی پارٹی، سیاسی اور زاتی مفادات کو ریاستی ترجیحات پر ترجیح دیکر اس پسماندگی کے ذمہ دار ہے، بلوچستان کے جوان امن کے نہ صرف خواہشمند ہے بلکہ آج کے اس سیمینار کی شکل میں متحرک بھی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے بچے جو اسکولوں میں، کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں انہوں نے ہی بلوچستان کے اچھے مستقبل کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے، ہماری اس جوان نسل نے یہاں کے قوم پرستی جو کہ ایک دھوکہ ہے کو رد کرکے بلوچستان کو تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ یہاں بلوچستان میں 65 ایم پی ایز صاحبان جو الیکشن لڑ کر اسمبلی میں آتے ہیں جنکے پاس تمام تر وسائل کی تقسیم پر اختیار حاصل ہے کیونکر اپنا کردار ادا کرنے سے کترا رہے ہیں؟ کیا پنجاب یا پھر ملک کے دیگر صوبوں سے انکا تعلق ہے؟ پھر کہا جاتا ہے کہ ہمیں کوئی اختیار حاصل نہیں ہے تو اگر اختیار حاصل نہیں تو پھر اسمبلی سے مستعفی کیوں نہیں ہوتے؟ کیا وجہ ہے کہ صاحب اختیار امیر ہورہے ہیں اور عوام کا بھوک و افلاس سے کچومر نکالا جاتا ہے جبکہ مورد الزام ہمارے دفاعی اداروں کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ اسی بھوک و افلاس سے مجبور ہوکر یہاں کے بلوچ پہاڑوں کا رخ کر رہے ہیں کوئی پوچھتا کیوں نہیں۔ اس لئے بلوچستان میں مفاہت کے عمل کو جاری رکھا جائے اور تمام تر مسائل کا حل مذاکرات سے حل کیا جائے تاکہ بلوچستان امن کا گہوارہ بنکر ملک کی ترقی کا ضامن بن سکے۔ ظہور بلیدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کے ذریعے ہم ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں، سیمینار میں صوبائی سیکرٹری اطلاعات و تعلقات طارق خان ترین، ملک قربان علی ترین، بابر خجک، میر عبدالغفار بادینی، سردار امین اللہ سمیت تمام طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں