سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی میں منظور نظر افراد کو نوکریاں دی گئیں، صدف خان

کوئٹہ: سرداربہادرخان وومن یونیورسٹی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی صدرصدف خان نے کہا ہے کہ وائس چانسلر کی جانب سے اساتذہ کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے یونیورسٹی میں اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کیلئے ایمپلائزویلفیئرایسوسی ایشن کے عہدیداروں سے ملاقات کرنے کے بجائے ان کیخلاف بروری تھانہ میں استغاثہ کروایا، بلوچستان جیسے قبائلی صوبے میں خواتین کی عزت کوپامال کرکے تھانے کے باہر تماشہ بنانا افسوسناک ہے، پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈر اور سینئر اساتذہ کو ایڈمن میں تقرریاں کرکے جونیئرز کو تدریسی شعبے میں تعینات کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز ایکشن کمیٹی کی نائب صدر راحیلہ، اسسٹنٹ پروفیسر نیلوفر، پریس سیکرٹری طارق محمود و دیگر کے ہمراہ ہفتے کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین کے حقوق کیلئے ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا قیام عمل میں لایا گیا مگر یونیورسٹی کی وائس چانسلر نے عہدیداران سے ملاقات کرنے کے بجائے بروری تھانہ میں استغاثہ کروایا اور بلوچستان کی روایات کے برعکس تھانے کے باہر تماشہ بناکر خواتین کی عزت نفس کو مجروح کیا گیا، یونیورسٹی انتظامیہ نے ملازمین کیخلاف انتقامی کارروائیاں شروع کیں، ان اقدامات کی وجہ سے یونیورسٹی دن بدن پستی کا شکار ہوتی چلی گئی، ڈائریکٹ کنٹریکٹ پر تعینات افراد کو عدالت عالیہ نے نااہل قرار دیا مگر بعد میں ان کو سینڈیکیٹ کے ذریعے مستقل کرکے پروموشن سے نوازا گیا جوکہ ان کی ہٹ دھرمی کا ثبوت ہے، ملک کی موجودہ ابتر معاشی صورتحال کے باجود یونیورسٹی میں 125 افراد کو کنٹریکٹ پر تعینات کیا گیا ہے جن کی کوئی سیکورٹی کلیئرنس موجود نہیں ہے، سابق وائس چانسلر سلطانہ بلوچ کے دور میں یونیورسٹی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ڈاکٹر ساجدہ نورین نے عدالت عالیہ سے کرسی صدارت سنبھال کر انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا، ایڈمن اسٹاف کے تبادلے آئے روز معمول بن چکے ہیں، یہ ہی نہیں ہمیں 15 فیصد ڈی آر اے ابھی تک نہیں دیا گیا اور ہاﺅس ریکوزیشن جو گزشتہ پانچ سال سے بند ہے جبکہ منظور نظر افراد کو اوور ٹائم کی مد میں ہزاروں روپے فراہم کیے گئے، جب بھی وائس چانسلر سے ملاقات کریں تو فنڈز میں کمی کا واویلا مچایا جاتا ہے، ایچ ای سی میں ڈاکٹر ساجدہ نورین کی رینکنگ 48.16 تھی حالیہ ایچ ای سی چیئرمین نے سردار بہادر خان وومن یونیورسٹی کا دورہ تک نہیں کیا جو ان کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وائس چانسلر ملازمین کے ساتھ ناروا رویہ اپناتے ہوئے مستقل اور کنٹریکٹ پر تعینات ملازمین کو نوکریوں سے نکال چکی ہیں، ان کیخلاف ہم نے عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے، سینئر اساتذہ کو عہدوں سے ہٹا کر منظور نظر جونیئر اساتذہ کو تعینات کیا گیا۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ پر ملازمین کو نکال کر نئے منظور نظر من پسند ملازمین کو بغیر کسی قانونی تقاضوں اور قوائد و ضوابط کو پورا کر کے ملازمتیں دی ہیں جسکی وجہ سے ملازمین میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں