بلوچستان کی آبادی سابقہ مردم شماری سے بھی کم ظاہر کی جارہی ہے، جو بلوچوں کیساتھ زیادتی ہے، بی ایس او پجار

کوئٹہ (انتخاب نیوز) بلوچ قوم کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے سازش سے باز رہا جائے۔ مردم شماری میں بلوچ علاقوں کی اکثریتی آبادیوں کو مکمل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ مستونگ، نوشکی، چاغی، خاران سمیت کوئٹہ کے کئی علاقوں میں افغان مہاجرین کو شمار کیا گیا ہے جبکہ اس سے پہلے ہونے والی مردم شماری کے اعداد وشمار میں بھی بلوچ آبادیوں کو کم ظاہر کیا گیا جو کسی صورت قبول نہیں۔ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (پجار) وحدت بلوچستان کے ترجمان بجار بلوچ نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ مردم شماری میں بلوچ علاقوں کی آبادیوں میں جانے کے بجائے سرسری اور پرانے اور نامکمل ریکارڈ سے اعداد وشمار نکال کر پیش کیے جارہے ہیں جس سے بلوچ آبادی والے علاقوں کو جانبداری اور نظر انداز کرکے بلوچستان کی سابقہ آبادی سے بھی کم دکھایا جارہا ہے، جس میں ضلع مستونگ، ضلع چاغی، ضلع نوشکی، ضلع خاران اور کوئٹہ کے بیشتر علاقوں میں نہ صرف افغان مہاجرین کو شمار کیا گیا بلکہ بلوچ آبادیوں کو پس و پشت ڈالا گیا ہے۔ مذکورہ ضلعوں کی انتظامیہ بلوچ ہونے کے باوجود بلوچ کے تشخص کو ہونے والے ناقابل تلافی نقصان پر تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے اگر بلوچ آبادی کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ بلوچستان کی اقوام کو دست و گریبان کرنے کے مترادف ہوگا جس میں اسلام آباد کیساتھ ساتھ بلوچ بابو برادری بھی اس کی برابر ذمہ دار ہوگی۔ ہم ارباب اختیار اور ملک کو چلانے والی طاقتور قوتوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ بلوچ وطن پر بلوچ اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے سازش سے باز رہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ مردم شماری کی تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع دی جائے تاکہ دور دراز علاقوں میں جہاں مردم شماری ٹیم نہیں پہنچیں وہ وہاں تک رسائی حاصل کرسکیں اور مردم شماری کا عمل مکمل کرسکیں تاکہ کسی بھی قوم کیساتھ ناانصافی نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں