اعلیٰ عدلیہ نے سیاسی پارٹیوں کے فل کورٹ کے مطالبے کو رد کر کے بڑی غلطی کی، ڈاکٹر مالک

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کوئٹہ پریس کلب آکر نو منتخب صدر عبدالخالق رند، سیکرٹری بنارس اور ان کی ٹیم کو منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی اور عدالتی بحران بنیادی طور پر اعلیٰ عدلیہ کے جانبدارانہ فیصلوں کے سبب پیدا ہوا ہے موجودہ سیاسی بحران کے تانے بانے پنجاب کی عدم اعتماد کی تحریک کے فیصلوں سے جڑے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب یہ سیاسی بحران گمبھیر تر ہوتا جارہا ہے اس کا حل مذاکرات ہے، تمام سیاسی جماعتوں اور خصوصاً تحریک انصاف کی قیادت کو ایک ساتھ بیٹھ کر ان مسائل کا ایک حل نکالنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت اعلیٰ عدلیہ سمیت تمام ادارے آپس میں تقسیم ہیں، ایسی صورتحال میں مذاکرات واحد حل ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ نے سیاسی پارٹیوں کے فل کورٹ کے مطالبے کو رد کر کے بہت بڑی غلطی کی۔ متنازعہ فیصلے تقسیم کا باعث بنتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت شدید ترین اقتصادی، سیاسی اور انتظامی بحران میں پھنس چکا ہے جس سے مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی لیکن ہمارے یہاں اب بھی لوگوں کو ایک وقت کا کھانا میسر نہیں، لوگ روٹی کے لیے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں، کرپشن اور اقرباءپروری عروج پر ہے۔ افسوس ہے کہ ٹرانسفر اور پوسٹنگ سے اوپر کی بصیرت نہیں رہی۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر کے ساتھ مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، جسٹس ریٹائرڈ شکیل احمد بلوچ، خیر بخش بلوچ، علی احمد لانگو، عبدالخالق بلوچ، محراب بلوچ، نیاز بلوچ، یونس بلوچ، قلندر مگسی ایڈووکیٹ، آصف جان، جمال بلوچ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر پریس کلب ملک میں سینئر صحافی شہزادہ ذوالفقار بلوچ، مقبول رانا، الٰہی بخش بگٹی، ظاہر ناصر سمیت دیگر موجود تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں